آئندہ انتخابات میں بی این پی سب سے زیادہ سیٹیں جیتے گی، جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہوگی، سروے
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق زیادہ تر شہریوں کا خیال ہے کہ آئندہ قومی انتخابات میں اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی جبکہ دوسرے نمبر جماعت اسلامی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا شیڈول کب جاری ہوگا؟ الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا
معروف بنگلہ دیشی روزنامہ پروتھوم آلو کے تازہ عوامی رائے عامہ کے سروے کے مطابق جماعت اسلامی ووٹرز کی پسند کے اعتبار سے دوسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے جو 2026 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ملک کے سیاسی ماحول میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اگرچہ سروے کی مکمل شماریاتی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں لیکن پروتھوم آلو نے بتایا ہے کہ نتائج کا جامع تجزیہ ان کی جاری کردہ ویڈیو رپورٹ میں دستیاب ہے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش انتخابات سے قبل سی آئی ڈی اور ٹک ٹاک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق
یہ سروے بنگلہ دیش میں 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی عوامی سیاسی رجحانات کا جائزہ لینے کی ایک وسیع سیریز کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش انتخابات 2026 بی این پی جماعت اسلامی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش انتخابات 2026 بی این پی جماعت اسلامی جماعت اسلامی بنگلہ دیش
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔