IELTS امتحانات میں بڑی جعل سازی؛ فیل ہونے والے ہزاروں افراد کو برطانوی ویزے مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
برطانیہ میں ویزے کے لیے انگریزی کے لازمی امتحان میں 80 ہزار تارکین وطن کے نتائج میں ہیر پھیر کرکے دھوکے سے ویزے تک حاصل کر لیے گئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ایک ہنگامہ خیز رپورٹ نے نہ صرف تارکینِ وطن میں تشویش پھیلا دی ہے بلکہ مستقبل میں برطانیہ جانے کا ارادہ رکھنے والے طلبا کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔
برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ IELTS کے امتحان کے تقریباً 80 ہزار امیدواروں کو غلط نتائج جاری کیے گئے کچھ کو فیل دکھایا گیا جبکہ کچھ کو پاس کر دیا گیا، جنہیں نہیں ہونا چاہیے تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئیلٹس کے دھوکا دہی کے شواہد خاص طور پر جو ممالک شامل ہیں ان میں چین، بنگلادیش اور ویت نام میں سامنے آئے ہیں۔
امتحان میں دھاندلی کے لیے پرچے لیک ہونا، پرچوں کی خریدو فروخت، پیسے دے کر پاس کروانے اور فیل ہونے والے امیدواروں کو جان بوجھ کر بہتر اسکور دینا بھی شامل ہے۔
بعض امتحانی مراکز میں تو یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ امیدوار نہ آئے ہوں، پھر بھی پاس ہو گئے۔
جس کے نتیجے میں کئی تارکین وطن نے بغیر محنت اور امتحان پاس کیے بغیر جعل سازی کر کے ویزا حاصل کرلیا۔
اس رپورٹ کے بعد اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ دنیا بھر میں لیے جانے والے انگریزی زبان کے امتحانات کی ساکھ کہاں کھڑی ہے؟
کنزرویٹو پارٹی نے اس اسکینڈل پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد نے غلط طور پر پاسنگ مارکس لے کر ویزا حاصل کیا انھیں فوراً ملک بدر کیا جائے۔
برطانوی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ معاملے کی باضابطہ تحقیقات چل رہی ہیں تمام نتائج اور طریقہ کار کی ازسرِنو جانچ ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے اسکینڈل کو روکنے کے لیے سخت ترین قواعد متعارف کروائے جائیں گے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ برطانیہ پہلے ہی کئی ممالک کے شہریوں کے ویزے محدود کرنے پر غور کر رہا تھا۔
IELTS پر بھروسہ کم ہونے سے یونیورسٹیاں متبادل ٹیسٹ کی طرف جا سکتی ہیں جن میں پی ٹی ای اکیڈمک، ٹوفل آئی بی ٹی اور ڈوہلینگو انگلش ٹیسٹ شامل ہیں۔
پاکستانی طلبا کے لیے اس خبر میں سب سے زیادہ دلچسپی کی چیز کیا ہے؟
امکان ہے کہ مستقبل میں IELTS کے لیے سخت نگرانی، بائیومیٹرک تصدیق، مزید مہنگی فیس اور نتائج کی ویریفیکشن لازمی کر دی جائے۔
خیال رہے کہ برطانیہ پہلے ہی پاکستانی ویزوں سے کروڑوں کماتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2023 میں برطانیہ نے پاکستانیوں کے ویزوں کی فیس اور ریفیوزل سے
1 ارب 87 کروڑ روپے سے زائد کمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر