پاکستان میں ہوائی سفر اتنا مہنگا کیوں ہوچکا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پاکستان میں نئی ایئر لائنز کراچی ایئر اور ایئر ساؤتھ جلد متعارف ہونے والی ہیں، جو مقامی سطح پر فضائی سفر کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کر سکیں گی۔
مذکورہ بالا ایئر لائنز کے منتظمین کے مطابق یہ اندرونِ ملک سستی اور بہتر سفری سہولتیں فراہم کریں گی۔ تاہم مجموعی طور پر ملک میں اس وقت ڈومیسٹک فلائٹس کی شدید کمی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ اندرونِ ملک کے بجائے بین الاقوامی پروازوں کو ترجیح دینا ہے۔
پاکستان کی مقامی ایئر لائنز میں سیرین ایئر (SereneAir) اور ایئر سیال (AirSial) کی اندرونِ ملک پروازیں اس وقت شدید متاثر یا معطل ہیں۔ سیرین ایئر کی تمام شیڈول ڈومیسٹک پروازیں 2 اکتوبر 2025 سے منسوخ ہیں۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) نے طیاروں کی عدم دستیابی کے باعث سیرین ایئر کا ایئر آپریٹر سرٹیفیکیٹ (AOC) معطل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ساؤتھ پنجاب کی ایئرلائن پہلی اڑان کب بھرے گی؟
ایئر سیال کی بھی اندرونِ ملک پروازیں کئی ماہ سے منسوخی کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ بھی طیاروں کی کمی یا ان کا گراؤنڈ ہونا ہے۔ یہ ایئر لائن دبئی اور جدہ جیسے روٹس پر پروازیں چلاتی ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایئر سیال کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس نے ملکی پروازیں بحال نہ کیں تو اس کی بین الاقوامی پروازوں کی حدبندی یا معطلی پر غور کیا جائے گا۔
ایئر سیال کو دیگر ایئر لائنز پر یہ برتری بھی حاصل تھی کہ اس کے ذریعے میت کی مفت منتقلی ایک شہر سے دوسرے شہر کی جاتی تھی، جو اب ممکن نہیں رہی۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق زیادہ تر ایئر لائنز بین الاقوامی پروازوں کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ زیادہ منافع بخش ہوتی ہیں۔ طیاروں کی کمی کی صورت میں ایئر لائنز ڈالر میں کمائی دینے والی بین الاقوامی پروازیں برقرار رکھتی ہیں، جبکہ اندرونِ ملک پروازیں عارضی طور پر روک دی جاتی ہیں۔
کرایوں میں اضافے کی دیگر وجوہاتپی آئی اے یونین کے فوکل پرسن مشتاق جمعہ کے مطابق ڈومیسٹک فضائی سفر کا کرایہ 25 ہزار سے بڑھ کر 65 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔
ان کے مطابق ہمارے ڈومیسٹک آپریشنز کے لیے مجموعی طور پر 55 طیارے دستیاب ہیں، جن میں سیرین ایئر اور ایئر سیال کا آپریشن بند ہے۔ پی آئی اے کا پشاور روٹ بھی اس وقت سکردو کے لیے چل رہا ہے جیسے ہی سکردو روٹ بند ہوگا، اسے دوبارہ پشاور کے لیے بحال کیا جائے گا۔
انہوں نے فلائی جناح کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت مکمل طور پر ڈومیسٹک فلائٹس چلا رہی ہے اور اچھی خدمات فراہم کر رہی ہے، حتیٰ کہ کوئٹہ کے لیے بھی فلائٹس دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کے بجائے جدہ لے جانے کا معاملہ: سندھ ہائیکورٹ کا ایئر سیال اور ایف آئی اے کو نوٹس
ان کے مطابق پاکستان میں اندرونِ ملک طے شدہ روٹس پر سروسز فراہم نہیں کی جا رہیں جبکہ بیرونِ ملک سروسز جاری ہیں، جس کے باعث ملک میں فضائی سفری بحران اور کرایوں میں اضافہ پیدا ہوا ہے۔
اگرچہ ڈومیسٹک پروازیں اندرونِ ملک ہوتی ہیں، مگر ایندھن کی عالمی قیمتیں اور پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کرایوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ ایندھن ایئر لائن کے مجموعی آپریٹنگ اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ہوائی جہازوں کی لیزنگ، پرزے، مرمت اور اوور ہالنگ کے اخراجات بھی ڈالر میں ادا کیے جاتے ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث یہ اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست ٹکٹوں کی قیمت میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
اندرونِ ملک روٹس پر بعض ایئر لائنز کے آپریشنز معطل ہونے یا طیارے گراؤنڈ ہونے سے مارکیٹ میں نشستیں کم ہو جاتی ہیں، جبکہ عید، موسمِ سرما کی تعطیلات یا دیگر تہواروں کے دوران طلب میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ طلب زیادہ اور نشستیں محدود ہوں تو کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے مخصوص وقت (Slots) کی کمی بھی اضافی پروازیں شامل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
حکومت کی جانب سے ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور دیگر ایئر پورٹ ٹیکسز بھی کرایوں میں اضافے کا باعث ہیں۔ کچھ روٹس پر اگر نجی ایئر لائنز کم ہوں یا ان کا شیڈول متاثر ہو تو باقی ایئر لائنز کے پاس کرائے بڑھانے کا موقع ہوتا ہے، جبکہ ریگولیٹری ادارے جیسے CAA کرایوں کی بالائی حد مقرر کرنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پاتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئر ساؤتھ ایئر سیال پاکستان میں ہوائی سفر سیرین ایئر فلائی جناح.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر ساؤتھ ایئر سیال پاکستان میں ہوائی سفر سیرین ایئر فلائی جناح بین الاقوامی پاکستان میں ایئر لائنز سیرین ایئر کرایوں میں ایئر سیال کے مطابق روٹس پر کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔