مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کو نسل کشی کے خطرات کا سامنا ہے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
جینو سائیڈ واچ جیسی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں، اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور نسل کشی کی تیاریوں کو روکنے کے لئے اقدامات کریں۔ اسلام ٹائمز۔ نسل کشی کے متاثرین کی یاد اور روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین نے مودی کے دورحکومت میں بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کو نسل کشی کے بڑھتے ہوئے شدید خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت میں ہندوتوا لیڈر کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جبکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف منظم ظلم و تشدد اور نفرت انگیز جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور غیر انسانی سلوک ایک ممکنہ قتل عام کا پیش خیمہ ہے۔ ماہرین نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور بھارت کو جواب دہ بنائیں۔جینو سائیڈ واچ جیسی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں، اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور نسل کشی کی تیاریوں کو روکنے کے لئے اقدامات کریں۔ ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے۔ حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت اور مقبوضہ ہے کہ وہ
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔