بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو مسلسل مظالم کا سامنا ہے، مقررین سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز نے یوتھ فورم فار کشمیر کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اجاگر کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز نے یوتھ فورم فار کشمیر کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اجاگر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارتی فورسز کے اہلکار مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھاپوں کے دوران بے گناہ نوجوانوں سمیت عام شہریوں کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں 1989ء سے اب تک 11ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی جبکہ اس وقت بھی درجنوں خواتین من گھڑت الزامات کے تحت بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کے لئے اقتصادی جبر، ہندوتوا حکومت کی حکمت عملی کا بنیادی جزو ہے۔ مسلمانوں، دلتوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کی صنعتوں، کاروبار، گھروں اور دیگر جائیدادوں کو بلڈوزر چلا کر مسمار کیا جا رہا ہے اور ان کے اثاثوں پر زبردستی قبضہ کیا جا رہا ہے۔
مسلمان سرکاری ملازمین کو مختلف بہانوں نے برطرف کیا جا رہا ہے۔ کنٹرول لائن کے آرپار تجارت کی بندش سے کشمیری نوجوانوں میں مایوسی مزید بڑھ گئی ہے۔ بھارت میں نوجوانوں کی بے روزگاری بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل سمیت انتہاپسند ہندوتوا تنظیمیں مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور انہیں مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ تازہ ترین مثال کٹرہ میں وشنو دیوی میڈکل کالج میں مسلمان طلباء کے داخلے کو روکنے کی کوشش ہے۔ مسلمان طلباء نے میرٹ پر NEET کا امتحان پاس کر کے داخلہ حاصل کیا ہے لیکن ہندوتوا تنظیمیں ان کے داخلے کو ہرصورت میں روکنے پر تلی ہیں جس سے ان کا کشمیر دشمن ایجنڈا بے نقاب ہوا ہے۔ سیمینار سے دیگر لوگوں کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے صدرجوہر سلیم، حریت رہنما شمیم شال، سیاسی رہنما ڈاکٹر شازیہ صوبیہ، رفاح انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رشید آفتاب اور صحافی فرخ کے پتافی نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسٹی ٹیوٹ آف کیا جا رہا ہے بھارت میں
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔