جنوبی کوریا اور جاپان نے روس اور چین کے فوجی طیاروں کی مشترکہ فضائی گشت کے بعد اپنے لڑاکا طیارے اسکرمبل کیے۔

جنوبی کوریا کی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے مطابق منگل کی صبح تقریباً 10 بجے (01:00 GMT) روس کے 7 اور چین کے 2 طیارے جنوبی کوریا کے فضائی دفاعی شناختی زون (KADIZ) میں داخل ہوئے۔ ان طیاروں میں بمبار اور لڑاکا طیارے شامل تھے۔

9日(火)の午前から夕方にかけて、ロシアの核兵器搭載可能な爆撃機Tu-95×2機が日本海→対馬海峡を飛行し、中国の長射程ミサイルを搭載可能な爆撃機H-6×2機と東シナ海において合流したあと、沖縄本島・宮古島間→太平洋の四国沖まで我が国周辺を共同飛行しました。… pic.

twitter.com/6RcWJbM99b

— 小泉進次郎 (@shinjirokoiz) December 9, 2025

اگرچہ یہ علاقہ سرکاری فضائی حدود نہیں ہے، لیکن یہاں طیاروں سے اپنی شناخت ظاہر کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ جنوبی کوریا نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر فوری طور پر لڑاکا طیارے تعینات کیے۔

روس و چین کے طیارے تقریباً ایک گھنٹے تک KADIZ میں پرواز کے بعد واپس چلے گئے۔ بعد ازاں جنوبی کوریا نے چین اور روس کے نمائندوں کو سفارتی احتجاج بھی پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پیوٹن نے چینی شہریوں کو روس میں 30 روز تک ویزا فری داخلے کی منظوری دے دی

وزارت دفاع کے جنرل لی کوانگ سوک نے کہا کہ ہمارا فوجی ادارہ بین الاقوامی قانون کے مطابق پڑوسی ممالک کے طیاروں کی سرگرمیوں پر فعال ردعمل جاری رکھے گا۔

جاپان نے بھی روس و چین کی مشترکہ پرواز کے بعد اپنے فضائی دفاعی اقدامات سخت کرنے کے لیے طیارے تعینات کیے۔ جاپان کے وزیر دفاع شن جیرُو کویزومی کے مطابق 2 روسی جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل Tu-95 بمبار طیارے جاپان کے سمندر سے تسوشیما کی خلیج تک آئے اور 2 چینی H-6 بمبار طیاروں کے ساتھ مشرقی چین کے سمندر میں ملے۔ ان کے ساتھ 8 چینی J-16 لڑاکا طیارے اور ایک روسی A-50 طیارہ بھی موجود تھا۔

ロシアと中国の軍用機が連携して日本周辺を飛行するとは本当に看過できない動きですね。

度重なる示威行動に強い懸念を感じます。

そんな中で、緊急発進し、日夜我が国の領空を守ってくださる航空自衛隊に心から感謝します。 pic.twitter.com/CWmEq40OuH

— 深夜枠(自民党絶賛応援) (@XaAoJWqGMfFTjnJ) December 9, 2025

کویزومی نے کہا کہ دونوں ممالک کے بمبار طیاروں کی بار بار مشترکہ پروازیں ہمارے ملک کے ارد گرد سرگرمیوں کی توسیع اور شدت کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ ہمارے قومی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

چین کے وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مشترکہ مشقیں روس کے ساتھ سالانہ تعاون کے منصوبوں کے تحت کی گئی ہیں اور یہ روس کے ساتھ دسویں مشترکہ سٹریٹیجک فضائی گشت تھے۔

روس نے بھی اس مشترکہ مشق کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ۸ گھنٹے جاری رہی اور کچھ غیر ملکی لڑاکا طیارے روس و چین کے طیاروں کے پیچھے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جاپان جنوبی کوریا چین روس فضائی زون

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جاپان جنوبی کوریا چین جنوبی کوریا لڑاکا طیارے روس و چین کے ساتھ چین کے روس کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی