2025 میں عالمی قرض 3 لاکھ 46 ہزار ارب ڈالر تک جا پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کے مطابق دنیا بھر میں قرض میں اضافے کی نئی لہر سامنے آ رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران عالمی قرض میں 26 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی عالمی قرض بڑھ کر 3 لاکھ 46 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ غیر مالیاتی کارپوریٹس کا قرض بھی تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ ارب ڈالر کے قریب ہو گیا ہے۔
انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور صاف توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات قرضوں کے بہاؤ کو مزید تیز کر رہی ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دنیا کا گھریلو قرض بھی 4 ہزار ارب ڈالر اضافے کے بعد 64 ہزار ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جو عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزار ارب ڈالر گیا ہے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔