فلوریڈا میں ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارہ گاڑی سے ٹکرا گیا، خاتون ڈرائیور زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
امریکی ریاست فلوریڈا کی بریوارڈ کاؤنٹی میں انٹر اسٹیٹ 95 پر لینڈنگ کے دوران ایک چھوٹا طیارہ ایک کار سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں خاتون ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں۔
فلوریڈا ہائی وے پٹرول کے مطابق تقریباً 5:45 بجے ایک ’فکسڈ ونگ ملٹی انجن ہوائی جہاز‘ انٹرسٹیٹ 95 کوکو کے علاقے میں 2023 ٹویوٹا کیمری سے ٹکرا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب طیارہ حادثہ میں بچ جانے والوں کو اپنے ساتھیوں کا گوشت کھانا پڑا
ایک اور ڈرائیور کی گاڑی میں نصب ڈیش کیم سے ریکارڈ ہونیوالی ناقابلِ یقین ویڈیو میں چھوٹے طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
WATCH: Small plane crashes into car while landing on I-95 in Brevard County, Florida pic.
— BNO News Live (@BNODesk) December 9, 2025
57 سالہ خاتون ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں اور انہیں ویئیرا اسپتال منتقل کیا گیا۔ میلبرن سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کا نام جاری نہیں کیا گیا۔
اورلینڈو سے تعلق رکھنے والا 27 سالہ مرد پائلٹ اور ٹیمپل ٹیرس کا 27 سالہ مسافر محفوظ رہے۔ ہائی وے پٹرول کے مطابق دونوں افراد موقع پر ہی موجود رہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں طیارہ حادثہ: اموات 27 تک پہنچ گئیں، ملک بھر میں یوم سوگ
حادثے کے باعث ساؤتھ باؤنڈ کی اندرونی اور وسطی لین بند کر دی گئی تھیں، جنہیں بعد میں کھول دیا گیا۔
حادثے کی تحقیقات کی قیادت ایف اے اے کر رہی ہے جبکہ فلوریڈا ہائی وے پٹرول بھی اپنی الگ تحقیقات کرے گا۔
ڈیش کیم ویڈیوڈیش کیم ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح طیارہ جم کوفی کی گاڑی کے بالکل اوپر سے گزرا، جب وہ اپنے بیٹے پیٹر کے ساتھ اٹلانٹا سے ویسٹ میلبرن کے گھر واپس جا رہے تھے۔
وہ پیٹر کے دوست کو یو سی ایف چھوڑنے کے بعد اسٹیٹ روڈ 520 سے آئی-95 پر چڑھے تھے۔
جم کوفی نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے بس دیکھا کہ طیارہ آسمان سے نیچے آ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: احمد آباد طیارہ حادثہ: خوش قسمت بھومی چوہان کی جان کیسے بچی؟
چند ہی لمحوں میں طیارہ ان کی گاڑی سے ٹکرا سکتا تھا، مگر وہ ان کے اوپر سے گزر کر دوسری کار سے جا ٹکرایا۔
پیٹر کوفی نے کہا کہ میں نے اسے دیکھا اور سوچا کہ امید ہے ایک طرف اتر جائے۔ میں نے سوچا شاید کار کو بچا لے، لیکن دھماکہ! پہیہ سیدھا پیچھے سے کار پر لگا۔”
جم کوفی نے کہا کہ خوش قسمتی سے گاڑی الٹی نہیں، بس دباؤ میں آ کر ایک طرف ہو گئی۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی رپورٹ 30 دن میں متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ریاست ساؤتھ باؤنڈ سیفٹی بورڈ فلوریڈا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ریاست ساؤتھ باؤنڈ سیفٹی بورڈ فلوریڈا سے ٹکرا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔