ایبٹ آباد میں اغوا ہونے والی ڈاکٹر کی چار روز بعد لاش مل گئی، ہسپتالوں میں ہڑتال
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
ایبٹ آباد میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سے مبینہ اغواء ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش لڑی بنوٹا کے مقام سے مل گئی۔پولیس کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر وردہ 4 دسمبر کو اپنی دوست کے ساتھ گاڑی میں ہسپتال سے گئی تھیں، ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اپنی دوست کے پاس امانت کے طور رکھوایا تھا۔ڈاکٹر وردہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردی گئی۔پولیس کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی دوست خاتون ردا ، شوہر اور ڈرائیور سمیت 9 افراد زیر حراست ہیں، ملزمہ خاتون ردا نے دوست ڈاکٹر کو کرائے کے قاتلوں کے حوالے کرنے کا اعتراف کیا، نشاندہی پر ایک ملزم گرفتار کر لیا جبکہ مرکزی ملزم فرار ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر پولیس کا ٹھنڈیانی کے جنگلات میں سرچ آپریشن جاری ہے۔دوسری طرف ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے لیڈی ڈاکٹر کے اغوا کے خلاف ہڑتال کر دیا، ہری پور میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کا احتجاج جاری ہے، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں او پی ڈی سمیت تمام سروسز بند کر دی گئیں۔ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈھینڈا روڈ بھی بند کر دیا، مظاہرین نے قاتلوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے اور ڈی پی او ایبٹ آباد اور ایم ایس ہسپتال کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔