آج بالی وڈ کے معروف اداکار دھرمیندر کی 90ویں سالگرہ ہے جو ان کے انتقال کے چند ہفتے بعد منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ان کے خاندان نے مرحوم اداکار کی یاد میں یادیں شیئر کی ہیں اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

ہیما مالنی نے دھرمیندر کی سالگرہ پر ان کے ساتھ اپنی چند تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ دو ہفتے سے زیادہ گزر چکے ہیں جب آپ نے مجھے چھوڑ دیا، میں آہستہ آہستہ اپنے ٹکڑوں کو جمع کر رہی ہوں اور اپنی زندگی کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

انہوں نے کہا یہ جان کر کہ آپ ہمیشہ میری روح میں میرے ساتھ ہوں گے۔ ہماری زندگی کی خوشگوار یادیں کبھی مٹ نہیں سکتیں اور صرف ان لمحوں کو دوبارہ جینے سے مجھے سکون اور خوشی ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں خدا کی شکر گزار ہوں ہمارے خوبصورت سالوں کے لیے، ہماری دو پیاری بیٹیوں اور خوشگوار یادوں کے لیے جو ہمیشہ میرے دل میں رہیں گی۔

Dharam ji

Happy birthday my dear heart❤️
More than two weeks have passed since you left me heartbroken, slowly gathering up the pieces and trying to reconstruct my life, knowing that you will always be with me in spirit.

The joyful memories of our life together can never be… pic.twitter.com/zY3QBJN0YE

— Hema Malini (@dreamgirlhema) December 8, 2025

ایشا دیول نے لکھا کہ میرے پیارے پاپا، ہمارا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا، چاہے جنت ہو یا زمین ہم ایک ہیں۔ میں نے آپ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں سمیٹ لیا ہے تاکہ آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں پاپا آپ محفوظ گود جو سب سے آرام دہ کمبل کی طرح محسوس ہوتی تھی، آپ کے نرم مگر مضبوط ہاتھ جن میں بغیر کہے پیغامات ہوتے تھے، آپ کی آواز جو میرا نام پکارتی تھی اور پھر بات چیت، ہنسی اور شاعری۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں پوری کوشش کروں گی کہ آپ کی محبت کو لاکھوں لوگوں تک پہنچاؤں جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ میں آپ سے محبت کرتی ہوں پاپا۔ آپ کی پیاری بیٹی، آپ کی ایشا، آپ کی بٹّو۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by ESHA DHARMENDRA DEOL (@imeshadeol)

سنی دیول نے دھرمیندر کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان دونوں کو خوبصورت پہاڑی مناظر سے لطف اندوز ہوتے دکھایا گیا۔ سنی نے والد سے پوچھا، ’کیا آپ مزے کر رہے ہیں، پاپا؟‘ جس پر دھرمیندر نے دل سے ہنس کر جواب دیا، ’میں واقعی مزے کر رہا ہوں‘۔ سنی نے ویڈیو کے ساتھ مختصر پیغام لکھا آج میرے والد کی سالگرہ ہے۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں پاپا۔ آپ یاد آتے ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Sunny Deol (@iamsunnydeol)

واضح رہے کہ دھرمیندر کا انتقال 24 نومبر کو 89 برس کی عمر میں ہوا جبکہ 10 نومبر کو ان کی موت کی جھوٹی خبریں بھی گردش میں رہیں جن کی اہلیہ ہیما مالنی اور بیٹی ایشا دیول نے تردید کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایشا دیول بوبی دیول دھرمیندر دھرمیندر انتقال دھرمیندر سالگرہ سنی دیول ہیما مالنی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشا دیول بوبی دیول دھرمیندر انتقال دھرمیندر سالگرہ سنی دیول ہیما مالنی دھرمیندر کی شیئر کی

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا