نومبر میں مہنگائی کی شرح معمولی کمی کے ساتھ 6.1 فیصد پر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک میں نومبر 2025 کی مجموعی مہنگائی معمولی کمی کے بعد 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اکتوبر کی 6.2 فیصد شرح سے کم ہے۔
اگرچہ مہنگائی میں ہلکی کمی آئی ہے مگر یہ گزشتہ سال کے اسی ماہ کی 4.9 فیصد شرح سے اب بھی زیادہ ہے، تاہم بنیادی افراطِ زر میں نمایاں کمی نے شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پر مجموعی افراطِ زر میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ بنیادی مہنگائی کی کمی اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں پالیسی ریٹ میں نرمی کا امکان بڑھ رہا ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری آسکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ میں اوسط مہنگائی 5.
مزید معاشی تجزیوں کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ مہینوں میں مہنگائی مزید کم ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میں مثبت تبدیلی کا امکان بڑھ جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔