Juraat:
2026-06-03@06:41:05 GMT

عارف بلڈر کا سرکاری ریکارڈ پر حملہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

عارف بلڈر کا سرکاری ریکارڈ پر حملہ

مختیارکار و اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے عارف بلڈر کی سرگرمیاں تیز
شہریوں کی بورڈ آف ریونیو کے سیکریٹری سے فوری نوٹس کی اپیل

( رپورٹ:اظہر رضوی) لطیف آباد حیدرآباد میں کچے کی زمینوں پر غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ چکا ہے، جہاں بلڈر مافیا نے عدالت اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے نئے سرے سے تجاوزات اور تعمیرات شروع کر دی ہیں۔ شہریوں کے مطابق معروف عارف بلڈر نے ممنوعہ کچے کے علاقے کوہسار میں دوبارہ مشینری اتار کر زمین ہموار کرنا شروع کر دیا ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں سابق ڈی جی ایچ ڈی اے فواد سومرو کے دور میں عارف بلڈر کی تمام رہائشی اسکیمیں منسوخ کی گئی تھیں اور تفصیلی رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔ اس کے بعد ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح احکامات جاری کیے کہ کچے کی زمین پر کوئی بھی کمرشل یا رہائشی تعمیرات نہیں کی جا سکتیں۔تاہم اس کے باوجود تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مختیارکار لطیف آباد علی شیر بدرانی اور اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد سعود لنڈ کو متعدد شکایات دی گئیں مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ بلڈر مافیا کو مبینہ طور پر انتظامی نرمی یا چشم پوشی حاصل ہے۔شہریوں نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے براہ راست سیکریٹری بورڈ آف ریونیو سندھ سے اپیل کی ہے کہ سرکاری زمینوں کی غیر قانونی فروخت، قبضہ اور ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ افسران نے فوری ایکشن نہ لیا تو غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ماحول اور نکاسی آب کے نظام کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ مستقبل میں پورے لطیف آباد کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہریوں نے اعلان کیا ہے کہ ضرورت پڑی تو وہ اس معاملے پر بڑے احتجاجی دھرنے دینے پر بھی مجبور ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: لطیف ا باد عارف بلڈر

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر