عارف بلڈر کا سرکاری ریکارڈ پر حملہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
مختیارکار و اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے عارف بلڈر کی سرگرمیاں تیز
شہریوں کی بورڈ آف ریونیو کے سیکریٹری سے فوری نوٹس کی اپیل
( رپورٹ:اظہر رضوی) لطیف آباد حیدرآباد میں کچے کی زمینوں پر غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ چکا ہے، جہاں بلڈر مافیا نے عدالت اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے نئے سرے سے تجاوزات اور تعمیرات شروع کر دی ہیں۔ شہریوں کے مطابق معروف عارف بلڈر نے ممنوعہ کچے کے علاقے کوہسار میں دوبارہ مشینری اتار کر زمین ہموار کرنا شروع کر دیا ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں سابق ڈی جی ایچ ڈی اے فواد سومرو کے دور میں عارف بلڈر کی تمام رہائشی اسکیمیں منسوخ کی گئی تھیں اور تفصیلی رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔ اس کے بعد ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح احکامات جاری کیے کہ کچے کی زمین پر کوئی بھی کمرشل یا رہائشی تعمیرات نہیں کی جا سکتیں۔تاہم اس کے باوجود تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مختیارکار لطیف آباد علی شیر بدرانی اور اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد سعود لنڈ کو متعدد شکایات دی گئیں مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ بلڈر مافیا کو مبینہ طور پر انتظامی نرمی یا چشم پوشی حاصل ہے۔شہریوں نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے براہ راست سیکریٹری بورڈ آف ریونیو سندھ سے اپیل کی ہے کہ سرکاری زمینوں کی غیر قانونی فروخت، قبضہ اور ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ افسران نے فوری ایکشن نہ لیا تو غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ماحول اور نکاسی آب کے نظام کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ مستقبل میں پورے لطیف آباد کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہریوں نے اعلان کیا ہے کہ ضرورت پڑی تو وہ اس معاملے پر بڑے احتجاجی دھرنے دینے پر بھی مجبور ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: لطیف ا باد عارف بلڈر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔