Daily Sub News:
2026-06-03@00:25:47 GMT

لوگو ، جاپان سے ہمیشہ چوکس رہو

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

لوگو ، جاپان سے ہمیشہ چوکس رہو

لوگو ، جاپان سے ہمیشہ چوکس رہو WhatsAppFacebookTwitter 0 8 December, 2025 سب نیوز

بیجنگ :کیا آپ نے اس افسوس ناک مظہر پر غور کیا ہے؟ دوسری عالمی جنگ کے دوران، امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، جس سے لاکھوں جاپانی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، ٹوکیو پر شدید بمباری نے بھی بے شمار گھر بار مٹی میں ملا دیے۔ جنگ کے بعد جاپان میں تعینات امریکی فوج کے مظالم نے بھی جاپانی عوام کو گہرے زخم دیے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسی گہری دشمنی کے باوجود، جاپانی قوم نے اجتماعی خاموشی اختیار کی، اور دہائیوں تک کسی ایک جاپانی نے بھی امریکی فوج کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی۔ غور کیا جائے تو اس کی وجہ جاپانی قوم کی “برداشت” نہیں، بلکہ اس کی وجہ اُن کی اُس سوچ میں پوشیدہ ہے جس میں اخلاق، انصاف اور صحیح غلط جیسے معیارات کی جگہ صرف طاقت اور کمزوری، اور جیت و ہار کے پیمانے موجود ہیں۔

یہ جنگل کے قانون جیسی ذہنیت ان کی قومی نفسیات میں گہرائی سے پیوست ہے۔جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو جاپان جزائر قدرتی وسائل سے تقریباً محروم ہیں۔ “مچھلی اور جھینگوں کی کثرت” کے علاوہ، صنعتی ترقی اور عام زندگی کے بنیادی وسائل تقریباً مکمل طور پر درآمدات پر منحصر ہیں ۔ ان فطری وسائل کی کمی نے ان کی ہڈیوں میں اتر جانے والی بقا کی بے چینی اور لالچ کی فطرت کو جنم دیا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی بیرونی توسیع اور جارحیت جاپان کے لیے اپنی بقا کا ایک ذریعہ رہی ہے، اور جدید تاریخ میں یہ رجحان جنون کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ محض 3 لاکھ 70 ہزار مربع کلومیٹر رقبے کے حامل ایک جزیرہ ملک کے طور پر جاپان نے بے خوفی سے بحرالکاہل کی جنگ چھیڑی اور بیک وقت امریکہ اور پورے ایشیا کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان کیا۔

حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں، جاپان کے سابق وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا نے اس بات کا ذکر کیا کہ جب جاپان نے امریکہ کے پرل ہاربر پر حملہ کیا تھا، تو دونوں ممالک کی قومی طاقت کا فرق دس گنا تھا۔ واضح طور پر جانتے ہوئے کہ فتح ممکن نہیں، پھر بھی جاپان نے اتنا خطرناک قدم کیوں اٹھایا؟ ایشیبا نے اشارہ کیا کہ اُس وقت فیصلہ سازی کا معیار عقل یا حکمتِ عملی نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ کون زیادہ بلند آواز میں بات کرتا ہے اور کون زیادہ” بہادر” نظر آتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دوسری عالمی جنگ کے ایک اہم جنگی مجرم ہیدیکی ٹوجو کے بیانات کا ذکر کیا، جو اس وقت جاپان کے فیصلہ ساز تھے: ” آزمائے بغیر کیسے پتا چلے گا؟ جنگ بھی تو قسمت کا کھیل ہے”۔ یہ الفاظ اس دور کے جاپانی فیصلہ سازوں کی پہچان بن گئے۔ یہی قمار بازی جیسی سوچ اُس دور کے فیصلوں کی محرک تھی، جس نے نہ صرف پڑوسی ممالک کو تباہ کن آفت میں مبتلا کیا، بلکہ آخر کار جاپان خود بھی شکست کی المناک گہرائی میں جاگرا۔تاریخ نے پہلے ہی ثابت کر دیا ہے کہ یہ سوچنا کہ جاپان صحیح اور غلط میں فرق کر سکتا ہے اور اپنی جارحانہ تاریخ کا کھل کر اعتراف کر سکتا ہے، درندے سے اس کی کھال مانگنے کے مترادف ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے لے کر اب تک، جاپانی حکومت نے کبھی بھی اپنے جارحانہ جرائم کا محاسبہ نہیں کیا، بلکہ نصابی کتب میں تبدیلی، یاسوکونی شرائین کے دورے جیسے طریقوں سے مسلسل تاریخ کو مسخ کرنے اور جنگ کو خوبصورت بنانے کی کوشش کی ہے۔ دائیں بازو کی قوتیں کھلم کھلا نانجنگ قتل عام جیسے تاریخی حقائق کو جھٹلاتی ہیں، اور جارحیت کو “ایشیا کی آزادی” کے نام نہاد “جائز اقدام” کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

تاریخ سے جان بوجھ کر چشم پوشی اور اس کو مسخ کرنا کوئی اتفاقی عمل نہیں، بلکہ ان کی قومی شخصیت میں اخلاقی پابندیوں کی کمی، اور صحیح و غلط کے فرق کی بے حسی کا نتیجہ ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ جاپان کے پاس اب جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے، جو پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا سلامتی خطرہ ہے۔ جاپان کی اِس جارحانہ قومی فطرت کو دیکھتے ہوئے، اگر “تین غیر جوہری اصولوں” کی پابندی کو توڑ دیا گیا، تو اس سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات ناقابلِ تصور ہوں گے ۔ حالیہ دنوں جاپانی عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کی علامتیں اور بھی واضح ہوتی جارہی ہیں، موجودہ وزیر اعظم سانائے تاکائیچی اور دائیں بازو کی قوتیں کھل کر “تین غیر جوہری اصولوں” پر سوال اٹھا رہی ہیں، امن آئین کی پابندیاں توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور ساتھ ہی مسلسل فوجی توسیع میں تیزی لا کر جارحانہ ہتھیاروں کی تیاری کو فروغ دے رہی ہیں۔

یہ خطرناک اشارے بلاشبہ پوری دنیا کے لیے سخت انتباہ ہیں۔تاریخ پر نظر ڈالیں تو جاپان کی توسیع پسندانہ خواہشات کبھی پوری طرح ماند نہیں پڑیں ، ہر دور میں اس کی توسیع نے خونریزی کو جنم دیا ۔ آج، بین الاقوامی ڈھانچے میں گہری تبدیلیوں کے تناظر میں، جاپانی دائیں بازو کی قوتیں بے چین ہیں، اور جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کی حدوں کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں، اُن کی عسکریت پسندی کے عناصر دوبارہ جاگ رہے ہیں ۔ دنیا کے تمام ممالک کو واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ جاپان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی یا چشم پوشی تاریخ کو دہرانے کا سبب بن سکتی ہے۔ جاپان کی توسیع کی خواہش اور عسکریت پسندی کی علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمیں انتہائی چوکنا رہنا چاہیے اور مضبوط اور مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ چین ہمیشہ ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ، خطے اور عالمی امن کو مضبوطی سے برقرار رکھتا ہے، اور جاپانی عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کی کسی بھی علامت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

تاریخ کے المیے کو دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، امن کے ثمرات کا تحفظ لازم ہے۔ آج جاپان کی قومی نفسیات، اس کا تاریخی رویہ اور موجودہ سیاسی رجحانات سب اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جاپان کے بارے میں کبھی بھی بےفکری کا رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ صرف واضح سمجھ بوجھ، چوکس نگاہ اور مضبوط قوت ہی اس کی توسیع پسندانہ خواہشات کو روک سکتی ہے، ممکنہ خطرات سے بچا سکتی ہے، اور مشکل سے حاصل کردہ عالمی امن و استحکام کی حفاظت کر سکتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرترکیہ نے اپنے جنگی ڈرونز پاکستان میں بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا،بلوم برگ کا دعویٰ اگلی خبربھارتی رویے کے باعث 11 سال سے سارک کا عمل جمود کا شکار ہے، صدر مملکت وزیراعظم نے گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری دیدی بھارت نے اطلاع دیئے بغیر چناب میں پانی کا ریلا چھوڑ دیا ’ہر طرح کا تعاون کیا پھر بھی مارا گیا‘، جیل سے رہائی کے بعد ڈکی بھائی نے خاموشی توڑ دی انجینئر محمد علی مرزا کی درخواست پر ایف آئی اے، پنجاب قرآن بورڈ سے جواب طلب آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس آج، پاکستان کیلئے 1.

2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونےکا امکان بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے 12 دہشت گرد بھاری اسلحہ و بارود سمیت گرفتار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی