Jasarat News:
2026-06-03@07:00:55 GMT

ریڈار لاک کا معاملہ سنگین، جاپان کا چین کو سخت انتباہ

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹوکیو: جاپان اور چین کے درمیان دفاعی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے کیونکہ جاپان نے الزام لگایا ہے کہ چینی لڑاکا طیاروں نے بین الاقوامی فضائی حدود میں جاپانی فوجی طیاروں پر فائر کنٹرول ریڈار  لاک کیا، جسے ٹوکیو نے  انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔

جاپانی وزیراعظم فومیو تاکائیچی نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے واقعات کا فوری سدباب کرے اور دوبارہ رونما ہونے سے روکے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق یہ دونوں واقعات ہفتے کے روز اوکی ناوا کے جنوب مشرق میں پیش آئے، جہاں چینی جے–15 طیاروں نے چینی طیارہ بردار بحری جہاز  لیاؤننگ سے اڑان بھری اور پرواز کے دوران دو جاپانی ایف–15 طیاروں پر ایک سے زیادہ مرتبہ ریڈار لاک آن کیا۔

 جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ اگرچہ کسی نقصان یا جانی خطرے کی اطلاع نہیں ملی، یہ رویہ  فضائی سلامتی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جاپان نے بیجنگ کے سامنے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

دوسری جانب چین نے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فضائی سرگرمیاں معمول کے مطابق تھیں جبکہ جاپانی فوجی طیارے چینی تربیتی فضائی حدود کے قریب مسلسل مداخلت کر رہے تھے۔

خیال رہےکہ  دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی حساس صورتحال سے دوچار ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں جاپانی وزیراعظم کے اس بیان پر چین نے سخت ردِعمل دیا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان اسے  وجودی خطرہ  تصور کرتے ہوئے اجتماعی دفاع کا حق استعمال کر سکتا ہے۔ بیجنگ نے اس بیان کے بعد جاپانی مصنوعات پر پابندیاں لگائیں، سیاحوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا اور ایک اہم ثقافتی اجلاس بھی ملتوی کر دیا۔

تائیوان کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی اس تنازعے کو مزید نازک بناتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ جاپان کے یوناغونی جزیرے کے قریب ہے اور خطے میں کسی بھی عسکری اقدام کے فوری اثرات جاپان تک پہنچ سکتے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا