Jasarat News:
2026-07-24@09:57:22 GMT

ریڈار لاک کا معاملہ سنگین، جاپان کا چین کو سخت انتباہ

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹوکیو: جاپان اور چین کے درمیان دفاعی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے کیونکہ جاپان نے الزام لگایا ہے کہ چینی لڑاکا طیاروں نے بین الاقوامی فضائی حدود میں جاپانی فوجی طیاروں پر فائر کنٹرول ریڈار  لاک کیا، جسے ٹوکیو نے  انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔

جاپانی وزیراعظم فومیو تاکائیچی نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے واقعات کا فوری سدباب کرے اور دوبارہ رونما ہونے سے روکے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق یہ دونوں واقعات ہفتے کے روز اوکی ناوا کے جنوب مشرق میں پیش آئے، جہاں چینی جے–15 طیاروں نے چینی طیارہ بردار بحری جہاز  لیاؤننگ سے اڑان بھری اور پرواز کے دوران دو جاپانی ایف–15 طیاروں پر ایک سے زیادہ مرتبہ ریڈار لاک آن کیا۔

 جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ اگرچہ کسی نقصان یا جانی خطرے کی اطلاع نہیں ملی، یہ رویہ  فضائی سلامتی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جاپان نے بیجنگ کے سامنے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

دوسری جانب چین نے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فضائی سرگرمیاں معمول کے مطابق تھیں جبکہ جاپانی فوجی طیارے چینی تربیتی فضائی حدود کے قریب مسلسل مداخلت کر رہے تھے۔

خیال رہےکہ  دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی حساس صورتحال سے دوچار ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں جاپانی وزیراعظم کے اس بیان پر چین نے سخت ردِعمل دیا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان اسے  وجودی خطرہ  تصور کرتے ہوئے اجتماعی دفاع کا حق استعمال کر سکتا ہے۔ بیجنگ نے اس بیان کے بعد جاپانی مصنوعات پر پابندیاں لگائیں، سیاحوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا اور ایک اہم ثقافتی اجلاس بھی ملتوی کر دیا۔

تائیوان کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی اس تنازعے کو مزید نازک بناتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ جاپان کے یوناغونی جزیرے کے قریب ہے اور خطے میں کسی بھی عسکری اقدام کے فوری اثرات جاپان تک پہنچ سکتے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار