—تصویر بشکریہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم فیس بک اکاؤنٹ

صدر ایکس سروس مین سوسائٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ملک نے کہا ہے کہ جاپان کی اسمبلی میں کرسیاں چلتی ہیں لیکن اداروں پر حملے نہیں ہوتے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ایکس سروس مین سوسائٹی نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کی طاقت کا سرچشمہ ملک کے عوام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی لڑائی بھارت کے ساتھ ہے، جو ہم نے سبق سکھایا سب نے دیکھا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں ہم نے بھارت کے خلاف فتح حاصل کی۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان میں خون ریزی کی جا رہی ہے، ملک اس وقت حالتِ جنگ میں ہے، پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس میں بھارت ملوث ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ بھارت نے دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے افغان سر زمین کا استعمال کیا، ملک کے خلاف مہم اندر اور باہر سے چل رہی ہے۔

صدر ایکس سروس مین سوسائٹی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف چلنے والی مہم میں بھارتی میڈیا بھی شامل ہے، ملک کے اندر سے کیے گئے ٹوئٹس کو بھارتی میڈیا نے ہائی لائٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگ سیاسی بات کرتے ہیں، جن لوگوں نے جانیں قربان کیں ان کے مجسمے توڑے گئے، کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ افواج پر حملہ کیا جائے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا دل اندر سے دکھی تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے یہ بھی کہا کہ جاپان کی اسمبلی میں کرسیاں چلتی ہیں لیکن اداروں پر حملے نہیں ہوتے، ملک کے تمام وزرائے اعلیٰ کے کندھوں پر بھاری ذمے داری ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ہمارے فوجی جوان حالتِ جنگ میں بھی مساجد کا احترام کرتے ہیں، کیا اس وقت خیر پختون خوا میں دہشت گردی کی لہر نہیں ہے؟

صدر ایکس سروس مین سوسائٹی نے کہا کہ بھارت کا یہ خواب رہا ہے کہ پاکستان میں جنگ کے لیے افغانستان کا استعمال کیا جائے، دونوں ہی ملک ہمارے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کا ایئر ڈیفنس سسٹم تباہ کیا، وہ اس کو ری پلیس کرنا چاہتا ہے، اسرائیل بھی اس وقت بھارت کی پشت پناہی میں مصروف ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، اس بات کی کوئی اجازت نہیں کہ لوگوں کو اکسایا اور کور کمانڈر کا گھر جلا دیا جائے، جو اس وقت ہماری لیڈر شپ پر کیچڑ اچھال رہے ہیں وہ بہت غلط کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: صدر ایکس سروس مین سوسائٹی لیفٹیننٹ جنرل کہ پاکستان نے کہا کہ ملک کے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی