خیبر پختونخوا ایک بڑا صوبہ ہے اس کے وزیر اعلی کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئے ؛ طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
سٹی 42: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا خیبر پختونخوا ایک بڑا صوبہ ہے اس کے وزیر اعلی کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئے ۔
طلال چوہدری نے کہا دہشتگردی ایک بڑا مسئلہ ہے اس پر وزیر اعلی کو اقدامات کرنے چاہیے ۔وفاقی حکومت ایک سیاسی حکومت ہے وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ صوبے میں گورنر راج لگے۔امید ہے کہ وزیر اعلی سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور اسٹنٹ بازی کی بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے ۔وزیر اعلی ہر دفعہ قومی سلامتی اور انسداد دہشتگردی اجلاس میں آنے کی بجائے پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں ۔وزیر اعلی کے پی بننے سے یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ہر جیل کے دروازے کھلوا کر جس مرضی قیدی سے مل لیں۔جیل میں ملاقات صرف جیل مینول کے تحت ہی جیل حکام کروا سکتے ہیں ۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی
ان کا کہنا تھا کہ اگر جیل کے باہر امن و امان کے مسائل پیدا کیے جائیں،جان بوجھ کر روڈز بلاک کی جائیں تو دوسرے قیدیوں کیلئے بھی خطرہ بن سکتا ہے ۔جیل حکام ہیں اور عدالتیں موجود ہیں اس حوالے سے کوئی جو بھی عہدہ پر ہو ڈکٹیٹ نہیں کروا سکتا قانون کے تحت ہی ملاقات ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزیر اعلی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔