عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے‘ عالمی میڈیا سے تشویشناک خبریں آرہی ہیں‘ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251201-01-14
پشاور(خبرایجنسیاں) خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے اور بین الاقوامی میڈیامیں ان سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے پھراڈیالہ جیل بھی جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اڈیالہ گئے وہاں 2 منٹ کے لیے نہیں ملنے دیا گیا، ہائیکورٹ بھی گئے پھر بھی ملاقات نہ ہوسکی۔ان کا کہنا تھاکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ این ایف سی ایوارڈ میں شرکت کریں گے، وہاں پر ضم اضلاع اور صوبے کی حقوق کے لیے لڑیں گے، 2018ء سے اب تک صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ نہیں مل رہا، ضم اضلاع کو اپنے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔سہیل آفریدی کے بقول ایک ہزار 350 ارب روپے 7 سال کے وفاق پر این ایف سی ایوارڈ میں واجب الادا ہیں، صوبے بھر کے جامعات میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سیمینار کررہے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی صوبے کے حقوق کے لیے مٹینگ کرنی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ سب کو مل کر صوبے کے لیے لڑنا ہوگا، سیاسی جدوجہد الگ، این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے حقوق کے لیے مشترکہ لڑنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم نہیں جائیں گے، میں بحیثیت وزیر اعلیٰ اور پارٹی کارکن بھی کام کر رہا ہوں، صوبے کے وزیر اعلیٰ کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، اس صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے،یہ غلط بات ہے کہ یہاں گڈ گورننس نہیں، یہاں کام ہو رہا ہے اس لیے ہمیں ووٹ ملتا ہے۔سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھاکہ تیراہ میں میری خاندانی زمین ہے، ذاتی کوئی زمین نہیں، میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف سی ایوارڈ کہنا تھاکہ وزیر اعلی صوبے کے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ