بدمعاشی کرینگے تو گورنر راج لگ سکتا ہے،ہماری خواہش ہے فیصل کریم کنڈی ہی گورنر رہیں، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بدمعاشی کرینگے تو گورنر راج لگ سکتا ہے،ہماری خواہش ہے فیصل کریم کنڈی ہی گورنر رہیں، فیصل واوڈا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)سیاسی رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے ہماری خواہش ہے فیصل کریم کنڈی ہی گورنر خیبر پختونخوا رہیں۔وفاقی دارالحکومت میں سینیٹر فیصل واوڈا کا پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ 26نومبر کی آپ تڑی لگائیں گے تو پھینٹا لگے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلی اپنی ذمہ داریاں نبھائے،اگر خیبر پختونخوا کا وزیراعلی اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتا تو گورنر راج کا آپشن ہونا نہیں ہے بلکہ ہو جائے گا۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ فیصل کریم کنڈی ہی گورنر خیبر پختونخوا رہیں ،اگر کسی اور نام کا قرعہ نکلتا ہے تو وہ پھر سیاسی نہیں نکل سکتا، ان کے نام پر ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر اب بھی اسے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی خواہش ہے تو دیوار پر ٹکر مارتے رہیں دیوار کو کچھ نہیں ہونا اور دیوار سے کچھ نہیں ملنا۔فیصل واوڈا نے کہا کہ آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ آپ سیاسی طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے پاس جائیں، فیلڈ مارشل موجود ہیں کمانڈ اِن کے پاس ہے، یہ ایک نوٹیفکیشن ہے آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں ہو جائے گا، سی ڈی ایف کا تعلق سیاست سے نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا بیان ان کا اسمبلی میں آنا یہ چیز بتاتا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں، میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلی سے کہوں گا کہ وہ اپنی حکومت چلائیں، ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد ایک انچ کی غلطی بھی اس کی ڈس کوالیفیکیشن کا سبب بن سکتی ہے۔سیاسی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگے، اگر آپ نے بدمعاشی مستی یا غنڈہ گردی ہی کرنی ہے تو پھر ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچے گا، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملنے ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ ہر مسئلے کی چابی صدر آصف علی زرداری کے پاس ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں میرے لیے قابل احترام ہیں، انٹرویو بہت سارے لوگوں نے دیے ہیں ہم سب نے بھی دیے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا جنرل باجوہ یا ثاقب نثار کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جس پر ان کا کہنا تھا کہ جو چیز پاکستان میں 75 سال میں نہیں ہوئی وہ اگلے 75 سال میں بھی نہیں ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگرفتار، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش بارے بل سینیٹ سے منظور گرفتار، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش بارے بل سینیٹ سے منظور کراچی میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع، سندھ کابینہ نے منظوری دیدی مریم نواز کے کام کرنے کی رفتار ترکیہ سے بھی تیز ہے، ترک رکن پارلیمنٹ برہان کایاترک کی ملاقات میں گفتگو جسٹس طارق جہانگیری کے استعفے کی خبروں پر انہی کی عدالت میں تذکرہ سری لنکا میں بدترین سمندری طوفان، پاکستان کے ریلیف آپریشن میں بھارتی حکومت رکاوٹ بن گئی متنازع ٹویٹس کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فوری حکم امتناع کی استدعا مستردCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی ہی گورنر ہماری خواہش ہے خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا گورنر راج نے کہا کے پاس
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔