خیبرپختونخوا میں بدمعاشی ہوئی تو گورنر راج لگ سکتا ہے، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بدمعاشی یا غنڈہ گردی کی گئی تو گورنر راج لگ سکتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد ایک چھوٹی سی غلطی بھی ان کی نااہلی کا سبب بن سکتی ہے، ان کی خواہش نہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگے، لیکن اگر سیاسی یا انتظامی غنڈہ گردی جاری رہی تو کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔
انہوں نے صوبے میں گورنر کی تعیناتی کے حوالے سے کہا کہ ان کی ترجیح فیصل کریم کنڈی ہیں اور اگر کسی اور نام کا انتخاب ہوا تو وہ سیاسی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہوگا۔
فیصل واوڈا نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقات کی خواہش رکھنے والوں کو بھی تنبیہ کی کہ اگر وہ دیوار سے ٹکرائیں گے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا اور سیاسی حل کے لیے براہ راست وزیراعظم اور صدر مملکت سے رابطہ ضروری ہے، ہر مسئلے کی چابی صدر آصف علی زرداری کے پاس ہے۔
سینیٹر نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان اور اسمبلی میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں، جس سے سیاسی توازن اور صورتحال واضح ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور انتظامی مسائل بڑھ رہے ہیں اور صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے گفتگو زور پکڑ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا میں فیصل واوڈا میں گورنر گورنر راج
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔