وفاق کے بغیر صوبہ نہیں چل سکتا: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی—فائل فوٹو
گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی ترجیح ہے، وفاق کے بغیر صوبہ نہیں چل سکتا۔
یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں پیپلز پارٹی کے 58 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مسلح افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے اپنی بطور گورنر خیبرپختون خوا تبدیلی کی خبروں کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، خیبر پختون خوا میں امن اور ترقی کے لیے متحد ہو کر چلنا ہو گا۔
گورنر خیبر پختون خوا نے کہاکہ پنجاب اور سندھ ترقی کے لیے جبکہ ہم امن کے لیے لڑ رہے ہیں، صوبے کی ترقی ترجیح ہے، وفاق کے بغیر صوبہ نہیں چل سکتا، اس لیے وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ 58 سال سے پیپلز پارٹی کا سفر جاری ہے، پی پی سندھ میں غریبوں کو گھر دے رہی ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 1 کروڑ غریب خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پارٹی میں اگر آپس میں کوئی اختلافات ہیں تو ان کو مل جل کر حل کریں، اگر پارٹی میں اتفاق ہو گا تو صوبے میں پیپلز پارٹی مضبوط ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کپڑا، روٹی اور مکان کی بات کی، ہر بار عوام کو روزگار فراہم کرتی ہے، سیاسی انتقام کی وجہ سے نکالے گئے ملازمین کو دوبارہ بحال کیا۔
اس موقع پر سابق گورنر بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی اپنا کردارادا کرتی رہی گی، ملک میں سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام آئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختون خوا پیپلز پارٹی گورنر خیبر نے کہا کہ وفاق کے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔