پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس : پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر مقام بنا چکے ہیں؛ بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
سٹی 42: پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس پر بلاول بھٹو زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے جیالوں سے خطاب کیا انہوں نے کہا پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر مقام بنا چکے ہیں۔آپس میں سیاسی اختلاف ضرور رکھیں لیکن پاکستان کی بات آئے ہم سب ایک ہوکر ہم مخالفین کا مقابلہ کریں.
بلاول بھٹو زرداری نے کہا آج پورے پاکستان کے جیالوں سے مخاطب ہوں۔قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت اور 1973 کے آئین کی بنیاد رکھی۔شہید بھٹوکا عدالتی قتل ہوا تو اس فلسفے کو بینظیر بھٹو لیکر آگے بڑھیں ۔دو آمروں سے محترمہ نے مقابلہ کیا اور ان کو لیاقت باغ میں شہید کیا گیا۔بلوچستان کے عوام کو حق دلوائے۔خیبر پختون خواہ کے عوام کو ہم نے شناخت دی۔پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر مقام بنا چکے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا ایک طرف بھارت اور دوسری طرف افغانستان پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔آپس میں سیاسی اختلاف ضرور رکھیں لیکن پاکستان کی بات آئے ہم سب ایک ہوکر ہم مخالفین کا مقابلہ کریں ۔ہم واحد سیاسی جماعت ہیں جو مثبت سیاست کر رہے ہیں ۔موجودہ بحران سے ملک کو ہم نکال سکتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی خود انقلابی آئین سازی کرکے آئے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔آئین کی بحالی کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو نے جدودجہد کی۔1973 کے بعد سب سے بڑی آئین ترامیم کی جس کو سب مانتے ہیں۔جو ترامیم میں نہیں کرسکے وہ اب کی ہیں۔
بلاول بھٹو نے خطاب میں کہا شہبازشریف نے وفدبھیجا تھا۔صوبوں کو آئینی تحفظ دلایا۔صوبوں کا جو شیئر تھا اس کو پاکستان پیپلز پارٹی نے دلایا ۔اگر صوبوں کو آئینی تحفظ نا دلواتے تو سب سے زائد نقصان پنجاب کا ہوتا ،آئینی ترامیم میں عدالتی اصلاحات لائے ۔آئینی عدالت بنالی اورچارٹرڈ آف ڈیموکریسی کے تحت شق ڈال دی ۔آئینی عدالت میں تمام صوبوں کو برابر کی بنیاد پر نمائندگی دلوائی ۔ملک کے سب سے بڑے مسائل آئینی اور سیاسی ہیں ۔آئینی عدالت کے ججوں کے کندھوں پر بڑا وزن ہے۔ماضی میں ہماری عدالتوں پر اعتماد تھا وہ ختم ہوچکا تھا ۔آئینی عدالت عوام کا اعتماد بحال کرے گی ۔ہمارامستقبل آئینی عدالت بہتر کرے گی
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے 35 پیسے تک کمی کا امکان
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی آئینی عدالت بلاول بھٹو بھٹو نے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔