خواتین کے کیسز اولین ترجیح ، کوئی تاخیر ‘ سفارش کو تاہی نہیں ہوگی مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) پنجاب میں زمین ہتھیانے والے غاصبوں کا اندھا راج ختم کر دیا گیا۔ پنجاب حکومت نے دو دن میں زمینوں پر ناجائز قبضے کے1005 کیس نمٹا کر حیران کن تاریخی ریکارڈ بنا دیا ہے۔ برسوں سے عدالتی چکر کاٹنے والے ایک ہزار پانچ خاندانوں کو 48گھنٹوں میں زمین کی ملکیت کا حق واپس مل گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لائیو ڈیش بورڈ پر خود مانیٹر کررہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں پراپرٹی آرڈیننس کے موثر نفاذ پر اہم اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صرف دو دن میں 1005 کیسز نمٹانے کے پنجآب حکومت کے نئے ریکاڑد کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے نئے پراپرٹی آرڈیننس کے موثر نفاذ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ پنجاب میں خواتین کے زمین کے کیسز اولین ترجیح پر حل کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم پر زمین کے کیس کا جیسے فیصلہ ہو گا۔ فوری قبضہ بھی ہو گا کوئی تاخیر، کوئی سفارش، کوئی کوتاہی نہیں ہو گی۔ زمین کا اصل مالک جب تک قبضہ نہ لے فیصلہ ادھورا ہے،کاغذ پر نہیں، قبضہ زمین پر حقیقی طور پر نظر آنا چاہیے۔ پنجاب کے ہر مرلے، ہر کنال، ہر ایکڑ پر صرف اور صرف اصل مالک کا ہی قبضہ ہوگا۔ زمین یا پراپرٹی پر کسی نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے تو اپنے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں درخواست دیں، دِنوں میں فیصلہ ہو گا۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے شہریوں کے سفر کو باعزت اور پرسکون بنانے کے لیے 1362 بس شیلٹرز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے 19 اضلاع میں 1362 جدید پائیدار اور خوبصورت بس شیلٹرز بنائے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں اضلاع میں بس شیلٹرز کے قیام کی ڈیڈ لائن طے کی گئی اور شیلٹرز کا ڈیزائن بھی منتخب کیا گیا۔ پرسکون اور باعزت سفر کی جلد ازجلد سہولت کے لئے بس شیلٹرز 45 سے 60 دنوں میں مکمل ہوں گے۔ مریم نواز نے تمام بس شیلٹرزمقررہ ایام میں مکمل کرنے کا ٹارگٹ دے دیا۔ پنجاب بھر میں 588 بس شیلٹرز کے قیام پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا ہے جبکہ 774 بس شیلٹرز کا ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ بزرگ، مائیں اور دیگر شہریوں کا دھوپ یا سخت سردی میں انتظار کرنا برداشت نہیں۔ پہلی بار پنجاب کے اضلاع پبلک ٹرانسپورٹ کے انقلابی فیز میں ہے۔ خوبصورت اور جدید بس شیلٹرز سہولت کے ساتھ شہروں کے حسن میں بھی اضافہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں کچرا ٹھکانے لگانے کا جدید منصوبہ تیار کیا ہے۔ تعلیمی، کاروباری اور دیگر اداروں میں کچرا جمع کرنے کے لئے عالمی معیار کے مطابق رنگدار کو ڑے دان استعمال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے حکم نامے میں کہاہے کہ تمام بازاروں، شاپنگ مالز، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں رنگ دار کوڑے دان لگائے جائیں۔ پہلے مرحلے میں گزشتہ سال ستمبر میں ’’سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ پراسیس‘‘ پنجاب بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں نافذ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ رنگ دار کوڑے دان نہ لگانے کی خلاف ورزی پر ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔ پیلے رنگ کے ڈبوں میں کاغذ، پیکنگ کا سامان اور ردی جمع کی جائے گی۔ سبز رنگ کے ڈبوں میں بوتلیں، کانچ کے ٹکڑے، لیبارٹری میں استعمال ہونیو الا ضائع شدہ سامان ڈالا جائے گا۔ سْرمئی (گرے) رنگ کے ڈبوں میں پھلوں کے چھلکے، ضائع شدہ کھانا، پتے اور گلی سڑی سبزیاں پھینکی جائیں گی۔ لال رنگ کے کچرے کے ڈبے لوہے اور دیگر دھاتی کوڑے کے لئے استعمال ہوں گے۔ نارنجی (اورنج) ڈبے پلاسٹک ویسٹ کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔ کوڑا دان کی اشیاء کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حکومت اور پاکستانی عوام پختہ عزم اور یکجہتی کے ساتھ فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ ہیں۔ فلسطینی عوام دہائیوں سے حق خودارادیت کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کی ہمت اور غیرمتزلزل حوصلے نے تاریخ میں نیا باب رقم کیا ہے۔ فلسطینی عوام کی جرات، بہادری اور عزم کو سراہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ آج کے دن اور ہمیشہ کے لیے ہم فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ امن معاہدے میں پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے سری لنکاکے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کو سہ ملکی سیزیزکا فائنل جیتنے پر مبارکباد دی اور کرکٹ ٹیم کو شاباش دی اور کہاکہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی کارکردگی شاندار رہی۔کھلاڑیوں نے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ علاوہ ازیں مریم نواز شریف نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر پیغام میں کہاہے کہ حکومت اور پاکستانی عوام پختہ عزم اور یکجہتی کے ساتھ فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ ہیں۔ فلسطینی عوام دہائیوں سے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کررہے ہیں - فلسطینیوں کی ہمت اورغیرمتزلزل حوصلے نے تاریخ میں نیا باب رقم کیا ہے- فلسطینی عوام کی جرات، بہادری اور عزم کو سراہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے وزیر اعلی مریم نواز بس شیلٹرز کے ساتھ دیا گیا کیا ہے رنگ کے کے لئے
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔