دہلی فسادات، پانچ سال کی قید کے بعد 6 مسلمان نوجوان عدالت سے بری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دہلی پولیس آتشزدگی اور لوٹ مار کے الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی فسادات کے ایک کیس میں عدالت نے 5سال کی قیدو بند کے بعد 6 مسلمان نوجوانوں کو بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے نوجوانوں کے گھروں میں برسوں بعد راحت اور خوشی دیکھنے کو ملی، تاہم یہ سوال کھڑا ہو گیا کہ بے قصور نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرنے والے پولیس افسران کی ذمہ داری کون طے کریگا؟ جن نوجوانوں کو بری کیا گیا ہے ان میں گلزار، شہزاد، واجد، ساجد، شہباز اور سلیم شامل ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دہلی پولیس آتشزدگی اور لوٹ مار کے الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ اس فیصلے سے ایک بار پھر فسادات سے متعلق ہونے والی تحقیقات کی خامیاں بے نقاب ہو گئیں جو اب بھی دہلی کے بہت سے مسلمان خاندانوں کو متاثر کر رہی ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الزامات کمزور اور غیر ثابت شدہ ہیں، اس لیے ان نوجوانوں کی قید غیر مناسب تھی۔ عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ استغاثہ شک و شبہ سے بالا تر ہو کر جرم ثابت نہیں کر سکا۔
فیصلے سے فسادات کے دوران پولیس کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ شہزاد کی عمر رسیدہ والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے نے اس جرم میں 5 سال جیل کاٹی جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ا س کے وہ 5سال کون واپس کرے گا؟ ان کا سوال دہلی کی مسلمان آبادی کی تکلیف اور غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ اب لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ان گرفتاریوں کے احکامات دینے والے افراد کو بھی سزا ملے گی۔ ایک مقامی شخص نے بتایا اگر پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا تو ان نوجوانوں کو 5سال تک کیوں قید رکھا گیا؟ کیا اس ناانصافی کا کوئی جواب ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔