پاکستان کی پہلی بار ریڈ سی فلم فیسٹول میں شاندار شمولیت — سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پاکستان کی پہلی بار ریڈ سی فلم فیسٹول میں شاندار شمولیت — سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کا خیرمقدم WhatsAppFacebookTwitter 0 30 November, 2025 سب نیوز
جدہ (رپورٹ: خالد نواز چیمہ)
سعودی عرب کے شہر جدہ میں 4 دسمبر سے شروع ہونے والے ریڈ سی فلم فیسٹول میں پاکستان پہلی بار باضابطہ طور پر شرکت کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے نہایت خوش آئند قرار دی جا رہی ہے۔ اس تاریخی شمولیت کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کی عملی مثال بھی کہا جا رہا ہے، جس کا مقصد مختلف ممالک کے عوام اور سعودی معاشرے کے درمیان ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
نوشین وسیم کی کاوشوں سے پاکستان کی شمولیت ممکن
جدہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوشین وسیم—جو ایونٹ مینجمنٹ کے شعبے میں ایک معتبر نام ہیں—نے بتایا کہ پاکستان کی ریڈ سی فلم فیسٹول میں شمولیت ان کی طویل محنت اور موثر روابط کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ:
“پاکستانی بوتھ کے قیام کے لیے ایک سعودی کمپنی نے بھرپور تعاون کیا، جبکہ مقامی پاکستانی کمیونٹی نے بھی ہر ممکن مدد فراہم کی۔”
فیسٹول میں ستر سے زائد ممالک کے ہزاروں افراد شرکت کریں گے، جبکہ 100 سے زیادہ فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی
پاکستانی بوتھ میں فلم اور ٹیلی ویژن کے نمایاں فنکار شامل ہوں گے۔
نوشین وسیم نے بتایا کہ جدہ کی فعال بزنس کمیونٹی کی مدد سے تین معروف پاکستانی فنکاروں کی شرکت یقینی بنائی گئی ہے:
عتیقہ اوڈھو
تقی حیدر
شہزاد نواز
نوشین وسیم نے انکشاف کیا کہ فیسٹول سے قبل ہی ایک ترک فلم کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستانی اور سعودی فنکاروں پر مشتمل ایک مشترکہ فلم بنانے جا رہی ہے۔
پاکستانی کمیونٹی اور جرنلسٹس فورم کا کردار قابلِ تحسین
نوشین وسیم نے پاکستانی کمیونٹی، کاروباری شخصیات اور پاکستان جرنلسٹس فورم کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ وہ ہر قومی ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی اور تشہیر کے لیے فعال کردار ادا کرتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا لندن میں طبی معائنہ، قیام بڑھانے کا فیصلہ جدہ: پاکستان انوسٹر فورم کے نومنتخب صدر چوہدری شفقت محمود دھول کی جدہ واپسی ؛ والہانہ استقبال ممبران اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کی... علی ظفر آئی ایل ٹی 20سیزن 4 کے آغاز پر اپنی آواز کا جادو جگائیں گے چوہدری شہزاد ہنجرا کی جانب سے معزز مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ ،کمیونٹی اتحاد و بھائی چارے کی شاندار مثال بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار دھرمیندر 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے مانچسٹر: پاکستانی کمیونٹی کے لیے خوشخبری، نادرا اور پی آئی اے میں سہولیات میں اضافہ وزیراعلیٰ پنجاب کی اسکلز ڈیولپمنٹ ٹاسک فورس کے چیئرمین عدنان افضل چٹھہ کی سعودی عرب میں اہم ملاقاتیں
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستانی کمیونٹی پاکستان کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔