مردان، سیاسی شخصیت کی سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مردان میں سگریٹ کی فیکٹری پر چھاپہ مار کر غیر قانونی سگریٹ کے 62 کارٹن ضبط کر لیے۔
ذرائع کے مطابق فیکٹری پر چھاپہ ایف بی آر ان لینڈ ریونیو نے مارا، ضبط شدہ سگریٹ پر ٹیکسز ادا نہیں کیے گئے تھے جس پر فیکٹری کو سیل کر کے مالکان پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا بتانا ہے کہ یہ فیکٹری سینیٹر دلاور خان کی ہے اور ان کے دباؤ کے باوجود کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق غیر قانونی بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جس کے دوران کوئی سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب نجی ٹی وی سے گفتگو میں سینیٹر دلاور خان کا کہنا ہے کہ میں گاؤں نہیں گیا، فیکٹری پر چھاپے کا کوئی علم نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیکٹری پر
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔