دہلی کار بلاسٹ معاملے کو لیکر اتراکھنڈ میں این آئی اے کا چھاپہ، امام جماعت سمیت 2 مسلمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
حکومتی ذرائع کے مطابق این آئی اے کو مسجد کے امام جماعت کے خلاف کچھ اہم اشارے ملے ہیں اور اسی بنیاد پر این آئی اے نے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی لال قلعہ دھماکے کی تحقیقات کرنے والی بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ اتراکھنڈ پولس ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق این آئی اے کی ٹیم نے ہلدوانی سے کئی ایسے افراد کو حراست میں لیا ہے جن کا دہلی دھماکہ کے کلیدی ملزم ڈاکٹر محمد عمر سے تعلق سامنے آیا ہے۔ دہلی دھماکے کی جانچ اب ہلدوانی کے بنبھول پورہ تک پہنچ گئی ہے۔ کل دیر رات این آئی اے، دہلی پولیس، ایل آئی یو اور ضلع پولیس نے ایک مسجد پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے بعد این آئی اے ٹیم نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ این آئی اے کی ٹیم ان میں دو افراد کو اپنے ساتھ دہلی لے گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دہلی دھماکے سے ہلدوانی کا تعلق اس وقت سامنے آیا جب کلیدی ملزم ڈاکٹر محمد عمر کی کال کی تفصیلات کی جانچ کی گئی۔ اس کے بعد دہلی سے این آئی اے کی ایک ٹیم ہلدوانی پہنچی اور بنبھول پورہ علاقے کی ایک مسجد پر چھاپہ مارا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بتایا جا رہا ہے کہ این آئی اے کو مسجد کے امام جماعت کے خلاف کچھ اہم اشارے ملے ہیں اور اسی بنیاد پر این آئی اے نے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ امام جماعت کے علاوہ ایک اور شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
احتیاطی اقدام کے طور پر ہلدوانی کے بنبھول پورہ علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ علاقے میں پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ ہلدوانی پولیس فی الحال کوئی بھی سرکاری بیان دینے سے گریز کر رہی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کل دیر رات سکیورٹی ایجنسیوں، دہلی پولیس اور ضلع پولیس نے ہلدوانی کے بنبھول پورہ علاقے میں چھاپہ مارا اور کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا جن کا تعلق دہلی دھماکوں میں مارے گئے کلیدی ملزم ڈاکٹر محمد عمر سے نکلا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حراست میں لے لیا ذرائع کے مطابق بنبھول پورہ آئی اے افراد کو گئی ہے
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔