دہلی کار بلاسٹ کے بعد "ای ڈی" نے الفلاح یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ای ڈی نے ملک بھر میں گروپ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی شناخت اور جائزہ لینے کیساتھ ساتھ اس گروپ کیطرف سے مبینہ طور پر بیرون ملک بھیجی گئی رقم کی شناخت کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ الفلاح یونیورسٹی اور اسکے ٹرسٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق گرفتار چیئرمین نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر دہلی میں زمین کے کچھ پلاٹ حاصل کئے ہیں۔ ہریانہ کے فرید آباد ضلع میں واقع الفلاح یونیورسٹی 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات میں ہے جس میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارہ کم از کم پانچ ایسے معاملات کی تحقیقات کر رہا ہے جہاں الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جواد احمد صدیقی سے منسلک ایک ٹرسٹ نے مبینہ طور پر پلاٹوں کے حصول کے لئے جعلی دستاویزات کا استعمال کیا۔
جواد احمد صدیقی کو ای ڈی نے 18 نومبر کو الفلاح گروپ اور اس سے منسلک اداروں کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں چھاپوں کے بعد گرفتار کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ان پلاٹ کے لئے جنرل پاورز آف اٹارنی (جی پی اے) کچھ متوفی افراد کے نام ہو سکتے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ ای ڈی نے ملک بھر میں گروپ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی شناخت اور جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس گروپ کی طرف سے مبینہ طور پر بیرون ملک بھیجی گئی رقم کی شناخت کا عمل بھی شروع کیا ہے۔ ایجنسی اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت ان جائیدادوں کو ضبط کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔