Express News:
2026-07-24@09:49:39 GMT

بے روزگاری کی شرح میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پاکستان میں لاکھوں جوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے، خواب آنکھوں میں سمائے، شام کو جب گھر لوٹتے ہیں تو ان کی خالی نظریں، پھیکے چہرے، پیشانی پر مایوسی کی سلوٹیں، ان کا فسانہ والدین پر ظاہر کر دیتی ہیں اور کئی مہینوں کی ٹھوکریں کھانے کے بعد ڈگری تو وہی، مگر اجرت کم پڑھے لکھے لوگوں کے برابر، وہ کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

حکومت کہتی ہے کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے ہے لیکن کسی کو تو 20 ہزار روپے ماہانہ کسی کو 25 ہزار روپے ماہانہ اور اگر کم پڑھے لکھے ملازموں کی بات کریں جو کسی دکان پر صبح 7 بجے سے رات 11 بجے تک کام کر رہا ہو، کسی کی تنخواہ 12 ہزار ، کسی کی 15 ہزار روپے۔

نئے لیبر فورس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 80 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔ بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.

1 فی صد ہو گئی ہے، لیکن آزاد ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ یہ تعداد ایک کروڑ سے بھی زائد ہے۔ ان میں وہ مایوس نوجوان بھی ہیں جن کے پاس اعلیٰ ڈگری ہونے کے باوجود کم سے کم تنخواہ پر نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ ڈگری جو کبھی جشن مناتی تھی، جو ماں باپ کا فخر تھا۔ آج سوال کرتی ہے کہ کیا میں سرمایہ تھی یا فقط کاغذ کا پھول۔

ان بے روزگاروں کی مجموعی تعداد میں وہ مستور بے روزگار شامل نہیں ہیں۔ جب ایک کھیت میں پہلے ہی دو افراد کام کر رہے ہوں، اگر ان میں مزید دو بے روزگاروں کو روزگار فراہم کر دیا جائے تو 4 مزدور ہونے کے باوجود کھیت کی پیداوار اتنی ہی ملے گی، پالے گئے گائے بھینسوں سے جتنا دودھ ملتا تھا اتنا ہی ملے گا۔ دو آدمیوں کی محنت سے کھیت کو جو پیداوار حاصل ہو رہی تھی وہی ملے گا اور گائے بھینس کے باڑے سے بھی اتنا ہی ملے گا۔ لہٰذا ان دو افراد کو مستور بے روزگار کہا جائے گا، اگر ان بے روزگاروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعداد سوا کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے تک جب کہ عملی میدان میں وہ بھی بے روزگار ہے جو مکینک کا کام سیکھا ہے۔ تو دیہاڑی 50 روپے کما لیتا ہے، کوئی نوجوان دوپہر کے کھانے اور شام کی چائے پر اپنا گزارا کر رہا ہے، کوئی کریانہ اسٹور پر کام کرتا ہے اور 12 ہزار روپے تنخواہ پاتا ہے۔ کہا گیا کہ لیبر فورس 7 کروڑ 72 لاکھ افراد سے بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔پاکستان میں بے روزگاری، محنت کی تقسیم کی نہیں بلکہ مواقع کی تقسیم کی ناکامی ہے۔

کھیت میں اوزار کم ہیں اور کسان زیادہ ہیں۔ شہر میں ڈگریاں بہت زیادہ ہیں اور نوکریاں بہت ہی کم ہیں۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں مزدور ہاتھوں کا ہونا طاقت نہیں بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک میں پڑھا لکھا نوجوان کم تنخواہ میں جکڑا جا رہا ہے۔ نوحہ یہ نہیں ہے کہ کام کم ہے جب کہ اصل نوحہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی قابلیت زیادہ ہے اور تنخواہ کم ہے۔ شکست صرف معاشی نہیں ہوتی یہ انسانی سرمائے کے پھول کا مرجھا جانا بھی ہے۔

کب تک لوگ اپنے خواب زمین پر بچھائیں گے اور بدلے میں چند روپے کی فصل مزدوری میں پائیں گے۔ کیا تعلیم مزدوری کے نرخ سے کم پر بیٹھی رہے گی۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق زراعت اور ماہی گیری جیسے روایتی شعبوں میں روزگار کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ ادھر تعلیمی شعبے میں سالانہ لاکھوں نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو جاتے ہیں مگر ملازمت اور مہارت کا خلا اتنا وسیع ہے کہ تعلیم کے باوجود تعلیم یافتہ بے روزگاری عام ہو رہی ہے۔

شہروں کی بات ایک طرف دیہاتوں اور قصبوں کے نوجوان بڑے شہروں میں کئی برس لگا کر وہاں ہوسٹل میں رہ کر، کم کھانا کھا کر کئی برس، کوئی 4 سال کوئی پانچ سال یا چھ سال لگا کر اپنے گاؤں لوٹتے ہیں اور پھر CV روانہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پھر تھک ہار کر بوڑھے والد سے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے کھیت میں اس کے بھائیوں کے برابر لا کر کھڑا کر دیتا ہے اور وہ مستور بے روزگاری کے زمرے میں چلا جاتا ہے۔

پڑھے لکھے نوجوان کے پاس جب نوکری نہ ہو تو نتیجہ یا تو پھر وہ مایوس نوجوان اپنے لیے اپنے گھر والوں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے یا پھر وہ زراعت جیسے شعبوں کا رخ کر لیتے ہیں۔پاکستان میں مزدور طبقے کی بڑی اکثریت غیر رسمی شعبے میں کام کرتی ہے جہاں نہ سوشل سیکیورٹی ہے نہ مستقل نوکری ہے، نہ تحفظ ہے نہ سالانہ چھٹی ہے نہ ماہانہ کوئی چھٹی ہے۔ کہیں تو ہفتے میں بھی چھٹی نہیں ہے اور چھٹی کا کوئی وقت بھی مقرر نہیں۔

 بعض دفتروں میں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ آنے کا وقت تو مقرر ہے لیکن جانے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ شام کے ساتھ بج جائیں یا رات کے 9 یا 10 بج جائیں۔ لیکن پھر بھی لوگ مجبور ہیں نوکری کرنے پر۔ کیونکہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے لیکن روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا نہیں ہو رہے ہیں۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں بے روزگاری ہزار روپے بے روزگار ہیں اور ہے اور کی شرح ہی ملے کام کر

پڑھیں:

موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ

اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔

اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے