ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ، نوجوانوں کیلئے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : بلوچستان حکومت کی جانب سے نوجوان انجینئرز کو عالمی معیار کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
بلوچستان حکومت نے صوبے کے نوجوان انجینئرز کو عالمی معیار کی منظم پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت بلوچستان اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ طے پاگیا۔
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
بریفنگ کے مطابق فارغ التحصیل انجینئرز کو 6 ماہ کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ دورانِ تربیت نوجوان انجینئرز کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ بھی دیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں 300 انجینئرز پر مشتمل بیچ کی تربیت یکم جنوری 2026 سے شروع ہوگی۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صوبے کو جدید مہارتوں سے لیس انجینئرز کی اشد ضرورت ہے جو ترقیاتی نظام کو مضبوط اور مؤثر بنا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت نوجوان انجینئرز کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے بھرپور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرے گی۔
شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ پروگرام نوجوان انجینئرز کے لیے سرکاری شعبے میں عملی تجربے کے نئے مواقع پیدا کرے گا جبکہ میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر بہترین تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت انجینئرنگ کے شعبے کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ بلوچستان کے نوجوان عالمی سطح پر مسابقت کے قابل ہو سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نوجوان انجینئرز انجینئرز کو
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز