سندھ نے 30 سال میں کافی ترقی کرلی، لوگ ملک سے باہر نہ جائیں، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
سیمینار سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے اہل لوگ ملک سے باہر جا کر کام کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کو ملک میں وہی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں جو انہیں باہر ملتی ہیں، حکومت سندھ بہتر تعلیم اور بہتر صحت کی سہولیات بڑھانا چاہتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 30 برس میں ہم نے کافی ترقی کی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے صوبے کے اہل لوگ ملک سے باہر نہ جائیں۔ مقامی ہوٹل میں سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سیمینار سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سندھ نے کافی کام کیے ہیں، ہم صحت کے شعبے کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سندھ ہائر ایجوکیشن کے ساتھ تعاون کر رہی ہے، بہت ضروری ہے کہ انڈسٹری اکیڈمیا ریسرچ کو ملایا جائے، دنیا بھر میں انڈسٹری کی ڈیمانڈ پر کام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اہل لوگ ملک سے باہر جا کر کام کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کو ملک میں وہی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں جو انہیں باہر ملتی ہیں، حکومت سندھ بہتر تعلیم اور بہتر صحت کی سہولیات بڑھانا چاہتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لوگ ملک سے باہر کرنا چاہتے ہیں نے کہا کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔