سندھ ہائیکورٹ,ای چالان کیخلاف فوری حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کے خلاف جماعت اسلامی،مرکزی مسلم لیگ، راشد رضوی ایڈووکیٹ اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت ،عدالت نے ای چالان فوری روکنے کی زبانی استدعا مسترد کردی۔ درخواستوں گزاروں کی جانب سے ای چالان پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی جس پر عدالت نے ای چالان فوری روکنے کی زبانی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم فوری طور پر حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے، فریقین کے جواب آنے دیں پھر کیس چلا کر فیصلہ کریں گے، درخواست گزار کاکہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے سب سے زیادہ چالان کراچی سے وصول کیے جارہے ہیں، عدالت کاکہنا تھا کہ کراچی حالات کے مختلف ہیں دوسرے شہروں سے موازنہ کیسے کرسکتے ہیں، ٹریفک پولیس محکمہ داخلہ اور دیگر نے جواب جمع کرانے کی مہلت طلب کی جس پر عدالت نے درخواست گزاروں کو درخواست کی نقول فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کردی۔ درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ ، آئی جی سندھ ، ڈی آئی جی ٹریفک ،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر جنرل نادرا بھی فریق بنایا گیا ہے ، درخواست گزار کاکہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عاید کیے گئے جرمانے انتہائی زیادہ اور غیر منصفانہ ہیں، ملک کے دیگر حصوں بالخصوص لاہور میں جس خلاف ورزی پر جرمانہ 200روپے ہے، کراچی میں 5ہزار روپے ہے، حکومت سندھ نے جولائی 2025سے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 40ہزار روپے مقرر کی ہے، اس تنخواہ میں گروسری، یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی تعلیم و دیگر ضروریات ہی پوری نہیں ہوتیں،ٹریفک قوانین کی یہ نام نہاد اصلاحات صوبے کے دوسرے بڑے شہروں میں نافذ نہیں کی گئیں،لاہور کے مزدور کی آمدنی کا۔5 فیصد اور کراچی کے مزدور کی آمدنی کا ساڑھے فیصد جرمانہ ہے،فریقین کو ہدایت کی جائے کہ وہ عدالت کو ان جرمانوں کے منصفانہ ہونے کے بارے میں مطمئن کریں،عاید کیے گئے جرمانوں کے عمل کو فوری طور معطل کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماء ندیم اعوان نے سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ٹریفک قوانین کے خلاف عاید کردہ جرمانے منصفانہ نہیں، ای چالان کے نام پر شہریوں سے ای بھتہ وصول کیا جارہا ہے ،شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ، پہلے سہولت فراہم کی جائے، کروڑوں کے چالان کرنے کے بعد چند مقامات پر اسپیڈ سائن لگائے گئے،چالان سے مسئلہ نہیں پہلے عوام کو سہولیات تو فراہم کی جائیں ،مرکزی مسلم لیگ عوام کا مقدمہ عدالت میں لائی ہے، بنیادی سہولیات ملنے تک ای چالان روکے جائیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔