data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کے خلاف جماعت اسلامی،مرکزی مسلم لیگ، راشد رضوی ایڈووکیٹ اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت ،عدالت نے ای چالان فوری روکنے کی زبانی استدعا مسترد کردی۔ درخواستوں گزاروں کی جانب سے ای چالان پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی جس پر عدالت نے ای چالان فوری روکنے کی زبانی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم فوری طور پر حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے، فریقین کے جواب آنے دیں پھر کیس چلا کر فیصلہ کریں گے، درخواست گزار کاکہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے سب سے زیادہ چالان کراچی سے وصول کیے جارہے ہیں، عدالت کاکہنا تھا کہ کراچی حالات کے مختلف ہیں دوسرے شہروں سے موازنہ کیسے کرسکتے ہیں، ٹریفک پولیس محکمہ داخلہ اور دیگر نے جواب جمع کرانے کی مہلت طلب کی جس پر عدالت نے درخواست گزاروں کو درخواست کی نقول فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کردی۔ درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ ، آئی جی سندھ ، ڈی آئی جی ٹریفک ،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر جنرل نادرا بھی فریق بنایا گیا ہے ، درخواست گزار کاکہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عاید کیے گئے جرمانے انتہائی زیادہ اور غیر منصفانہ ہیں، ملک کے دیگر حصوں بالخصوص لاہور میں جس خلاف ورزی پر جرمانہ 200روپے ہے، کراچی میں 5ہزار روپے ہے، حکومت سندھ نے جولائی 2025سے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 40ہزار روپے مقرر کی ہے، اس تنخواہ میں گروسری، یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی تعلیم و دیگر ضروریات ہی پوری نہیں ہوتیں،ٹریفک قوانین کی یہ نام نہاد اصلاحات صوبے کے دوسرے بڑے شہروں میں نافذ نہیں کی گئیں،لاہور کے مزدور کی آمدنی کا۔5 فیصد اور کراچی کے مزدور کی آمدنی کا ساڑھے فیصد جرمانہ ہے،فریقین کو ہدایت کی جائے کہ وہ عدالت کو ان جرمانوں کے منصفانہ ہونے کے بارے میں مطمئن کریں،عاید کیے گئے جرمانوں کے عمل کو فوری طور معطل کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماء ندیم اعوان نے سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ٹریفک قوانین کے خلاف عاید کردہ جرمانے منصفانہ نہیں، ای چالان کے نام پر شہریوں سے ای بھتہ وصول کیا جارہا ہے ،شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ، پہلے سہولت فراہم کی جائے، کروڑوں کے چالان کرنے کے بعد چند مقامات پر اسپیڈ سائن لگائے گئے،چالان سے مسئلہ نہیں پہلے عوام کو سہولیات تو فراہم کی جائیں ،مرکزی مسلم لیگ عوام کا مقدمہ عدالت میں لائی ہے، بنیادی سہولیات ملنے تک ای چالان روکے جائیں ۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا