بلوچستان میں دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے، نوجوانوں کو روزگار دیں گے: غلام مصطفیٰ ملک
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اسلام آباد/کوئٹہ( طارق محمود سمیر)پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے فوکل پرسن غلام مصطفیٰ ملک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے امن اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں، اور ان کی وزارت نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
وہ کوئٹہ پریس کلب میں مسلم لیگ (ق) بلوچستان کی شمولیتی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں مرکزی نائب صدر نعمت خان خلجی، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عبدالشکور مری، صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رفیع اللہ اچکزئی، ضلعی صدور اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
غلام مصطفیٰ ملک کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کے کارکن بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اور پارٹی کو اپنی کامیابی کا بھرپور یقین ہے۔
نعمت خلجی نے کہا کہ پارٹی قیادت کی اولین ترجیح بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن ہے اور مسلم لیگ (ق) ایک بار پھر صوبے کی بہتری کے لیے فعال کردار ادا کرنے میدان میں آ چکی ہے۔
عبدالشکور مری نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، مگر اسے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اسے دیگر صوبوں کے برابر ترقی کے راستے پر لایا جا سکے۔
صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رفیع اللہ اچکزئی نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کی خصوصی ہدایت پر یہ شمولیتی پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ ورکرز بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے کوئٹہ کی ترقی اور عوامی خدمت میں بھرپور کردار ادا کریں۔
تقریب میں متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی، جبکہ غلام مصطفیٰ ملک نے نئے عہدیداروں کو نوٹیفکیشن اور بلدیاتی امیدواروں کو ٹکٹ بھی جاری کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غلام مصطفی نے کہا کہ مسلم لیگ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔