اگلے سال مون سون کی شدت 26 فیصد زائد ہوگی، چیئرمین این ڈی ایم اے
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
فائل فوٹو، لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر
چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ اگلے سال مون سون کی شدت 20 سے 26 فیصد زیادہ ہوگی۔
وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ گلگت بلتستان میں معمول سے زیادہ برف باری ریکارڈ ہوئی جبکہ گلیشیرز پگھلنے کی شرح بھی 3 فیصد بڑھ گئی ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ وزرات موسمیاتی تبدیلی، وزارت منصوبہ بندی اور این ڈی ایم اے مربوط حکمت عملی بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی شدت بڑھ رہی ہے، آئندہ برس مون سون زیادہ شدت کے ساتھ آئے گا، اس کےلیے پہلے سے تیاری کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم کو مزید بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب میں بے گھر افراد کو عارضی ریلیف کیمپوں میں رکھا گیا، انفرااسٹرکچر میں فوری بہتری ناگزیر ہے تاکہ آئندہ مون سون میں اس سال جیسا نقصان نہ ہو۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نےیہ بھی کہا کہ کوشش ہے آئندہ مون سون میں اتنا نقصان نہ ہو جو اس سال ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ مون سون میں ممکنہ 20 سے 25 فیصد زیادہ سیلابی خطرات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے قلیل مدتی منصوبے کی منظوری دے دی۔
انہوں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت منصوبہ بندی اور این ڈی ایم اے کو مشترکہ حکمت عملی بناکر فوری عمل درآمد کا حکم دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہر تیسرے سال موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات پر جی ڈی پی کا خاطر خواہ حصہ خرچ ہوتا ہے، محدود وسائل ترقی کی بجائے موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کےلیے استعمال ہوتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کی لپیٹ میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی ڈی ایم اے کہا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔