بالی ووڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون نے اپنے کیریئر اور فلموں کے انتخاب کے حوالے سے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔

بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں 38 سالہ اداکارہ نے فلموں اور کرداروں کے انتخاب اور کیریئر سے متعلق اہم رازوں سے پردہ اٹھایا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فلموں کا انتخاب اسکرپٹ کی بنیاد پر کرتی ہیں اور جس کردار میں حقیقت ہو یا پھر وہ سچائی کے قریب ہوں تو اُس سے انکار نہیں کرتیں اور نہ ہی کوئی بھاؤ تاؤ کرتی ہیں۔

دیپیکا نے بتایا کہ بعض اوقات کئی کرداروں کیلیے بہت زیادہ رقم کی پیش کش کی جاتی ہے مگر اس کے باوجود بھی وہ انکار کرتی ہیں کیونکہ اُن کا مقصد اپنے کسی بھی کردار کے ذریعے عوام کو پیغام پہنچانا ہے اور وہ اس اصول پر سختی سے کاربند بھی ہیں۔

پدماوت اداکارہ نے کہا کہ بعض اوقات تو فلم یا کردار کا انتخاب کرنے میں مشکل بھی پیش آتی ہے کیونکہ جس کو میں ٹھیک سمجھتی ہوں ہوسکتا ہے حقیقت ایسی نہ ہو مگر جو کچھ بھی ہو ایمانداری سے اُس کو نبھاتی ہوں۔

دیپیکا پڈوکون کی دو فلمیں اس وقت لائن اپ ہیں جس میں سے ایک میں وہ شاہ رخ خان کے ساتھ نظر آئیں گے جبکہ اس فلم کی ہدایت کاری سدھارتھ آنند کریں گے اور اس میں سہانا خان، ابھیشیک بچن، رانی مکھرجی بھی کردار ادا کریں گے اور یہ فلم اپریل 2026 میں ریلیز ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟