بالی ووڈ میں اسکرپٹس کی کمی! سنجے دت چوہدری اسلم، اکشے کھنہ رحمان ڈکیت کے روپ میں فلم کا حصہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
کراچی:
رنویر سنگھ کی نئی فلم “دھُرندھر” کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی نہ صرف پاکستان بلکہ خود بھارت میں بھی تنقید کی زد میں آگیا۔
بھارتی فلم سازوں نے اس بار حد سے زیادہ تخیلاتی اور حقیقت سے دور کہانی پیش کرتے ہوئے کراچی کے علاقے لیاری کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے، فلم میں چوہدری اسلم اور رحمان ڈکیت جیسے حقیقی کرداروں کو دکھایا گیا ہے۔
عدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم میں رنویر سنگھ ایک بھارتی جاسوس کا کردار ادا کر رہے ہیں جسے لیاری میں تعینات دکھایا گیا ہے۔ ٹریلر میں لیاری کی تصویر کشی نے ناظرین کو حیران کردیا جبکہ بھارتی شائقین نے بھی اسے ’’غیر حقیقی‘‘ اور ’’شرمناک پروپیگنڈا‘‘ قرار دے دیا۔
فلم میں ارجن رامپال میجر اقبال کے کردار میں نظر آئیں گے جنہیں ’’Angel of Death‘‘ کہا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی سیاست ان کی اجازت کے بغیر نہیں چلتی۔
مزید پڑھیں: رنویر سنگھ کی لیاری میں انٹری، پاکستان مخالف فلم میں بے نظیر کی تصاویر بھی شامل
فلم میں اکشے کھنہ کو رحمان ڈکیت کے کردار میں دکھایا گیا ہے جسے فلم میں “Apex Predator” کا لقب دیا گیا ہے۔ سنجے دت کراچی کے معروف کاؤنٹر ٹیرر افسر چوہدری اسلم کے کردار میں “The Jinn” کے طور پر نظر آئیں گے۔
فلم کے ٹریلر نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آخر کس بنیاد پر لیاری کو Spy War Zone کے طور پر دکھایا گیا؟ کیونکہ فلم میں دکھائی گئی کہانی کے برعکس حقیقت میں رحمان ڈکیت اور شہید چوہدری اسلم صرف کراچی کی گینگ وار اور پولیس مقابلوں تک محدود کردار تھے۔ فلم کی کہانی میں 1999 کے قندھار ہائی جیکنگ جیسے واقعات کے غیر واضح اشارے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا صارفین بھی ٹریلر دیکھ کر پھٹ پڑے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ فلم فیک نیشنلزم، غلط تاریخ اور بے ربط تصوراتی اسکرپٹ کا ملغوبہ ہے جبکہ کچھ نے طنز کیا کہ بالاکوٹ کا سیکوئل بناتے بناتے لیاری پہنچ گئے!۔
فلم پر تنقید کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور بیشتر صارفین کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں اسکرپٹس کی کمی کے باعث اب ہر تاریخی کردار کو من گھڑت بیانیے میں فٹ کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا بنا دیا جاتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل چوہدری اسلم رحمان ڈکیت دکھایا گیا فلم میں گیا ہے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان