کراچی:

رنویر سنگھ کی نئی فلم “دھُرندھر” کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی نہ صرف پاکستان بلکہ خود بھارت میں بھی تنقید کی زد میں آگیا۔

بھارتی فلم سازوں نے اس بار حد سے زیادہ تخیلاتی اور حقیقت سے دور کہانی پیش کرتے ہوئے کراچی کے علاقے لیاری کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے، فلم میں چوہدری اسلم اور رحمان ڈکیت جیسے حقیقی کرداروں کو دکھایا گیا ہے۔

عدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم میں رنویر سنگھ ایک بھارتی جاسوس کا کردار ادا کر رہے ہیں جسے لیاری میں تعینات دکھایا گیا ہے۔ ٹریلر میں لیاری کی تصویر کشی نے ناظرین کو حیران کردیا جبکہ بھارتی شائقین نے بھی اسے ’’غیر حقیقی‘‘ اور ’’شرمناک پروپیگنڈا‘‘ قرار دے دیا۔

فلم میں ارجن رامپال میجر اقبال کے کردار میں نظر آئیں گے جنہیں ’’Angel of Death‘‘ کہا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی سیاست ان کی اجازت کے بغیر نہیں چلتی۔

مزید پڑھیں: رنویر سنگھ کی لیاری میں انٹری، پاکستان مخالف فلم میں بے نظیر کی تصاویر بھی شامل

فلم میں اکشے کھنہ کو رحمان ڈکیت کے کردار میں دکھایا گیا ہے جسے فلم میں “Apex Predator” کا لقب دیا گیا ہے۔ سنجے دت کراچی کے معروف کاؤنٹر ٹیرر افسر چوہدری اسلم کے کردار میں “The Jinn” کے طور پر نظر آئیں گے۔

فلم کے ٹریلر نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آخر کس بنیاد پر لیاری کو Spy War Zone کے طور پر دکھایا گیا؟ کیونکہ فلم میں دکھائی گئی کہانی کے برعکس حقیقت میں رحمان ڈکیت اور شہید چوہدری اسلم صرف کراچی کی گینگ وار اور پولیس مقابلوں تک محدود کردار تھے۔  فلم کی کہانی میں 1999 کے قندھار ہائی جیکنگ جیسے واقعات کے غیر واضح اشارے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا صارفین بھی ٹریلر دیکھ کر پھٹ پڑے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ فلم فیک نیشنلزم، غلط تاریخ اور بے ربط تصوراتی اسکرپٹ کا ملغوبہ ہے جبکہ کچھ نے طنز کیا کہ بالاکوٹ کا سیکوئل بناتے بناتے لیاری پہنچ گئے!۔

فلم پر تنقید کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور بیشتر صارفین کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں اسکرپٹس کی کمی کے باعث اب ہر تاریخی کردار کو من گھڑت بیانیے میں فٹ کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا بنا دیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چوہدری اسلم رحمان ڈکیت دکھایا گیا کے کردار فلم میں گیا ہے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے