بنگلا دیش کا سیاسی بحران؛ جماعت ِ اسلامی کا ابھرتا ہوا کردار
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251119-03-3
بنگلا دیش کی سیاست دہائیوں سے دو خاندانوں عوامی لیگ اور بی این پی کے درمیان طاقت کے کھیل میں الجھی ہوئی ہے۔ ایک طرف عوامی لیگ کا سیکولر نیشنلزم ہے، جسے ریاستی اداروں اور بین الاقوامی لابیز کی حمایت حاصل رہی۔ دوسری طرف بی این پی ہے، جو کبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پر کھڑی ہوئی، کبھی عوامی جذبات سے وابستہ مذہبی شناخت کا سہارا لیتی رہی۔ اس خاندانی تقسیم نے بنگلا دیش کی سیاسی فضا کو دائمی عدم استحکام، ادارہ جاتی کمزوری اور سماجی تقسیم میں دھکیل دیا۔ مگر اس ماحول میں ایک قوت ایسی بھی رہی جس نے کبھی خاندانی سیاست نہیں اپنائی، کبھی تشدد کی سیاست نہیں کی، اور نہ ہی اقتدار کی ہوس میں اصولوں کا سودا کیا اور وہ قوت ہے جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش۔ پابندیوں، پھانسیوں، جھوٹے مقدمات اور ریاستی جبر کے باوجود یہ جماعت تنظیمی اعتبار سے اب بھی ملک کی سب سے مضبوط اور واضح نظریاتی سمت رکھنے والی جماعت ہے۔
شیخ حسینہ کے طویل دورِ حکومت کو بین الاقوامی سطح پر ’’معاشی ترقی‘‘ اور ’’استحکام‘‘ کا ماڈل بنا کر پیش کیا جاتا رہا، مگر اس ترقی کے پیچھے سیاسی جبر، انسانی حقوق کی پامالی اور اداروں کی تباہی کی ایک بھیانک حقیقت موجود ہے۔ آزادی اظہار پر سخت پابندیاں۔ الیکشن کمیشن کا حکومتی کنٹرول۔ عدالتوں کا سیاسی دباؤ ۔اپوزیشن کے ہزاروں کارکنان پر جعلی مقدمات۔ میڈیا کا خوفزدہ خاموش ماحول۔ سیاسی مخالفین کا لاپتا ہونا۔ لیکن سب سے شدید اور منظم ریاستی جبر جماعت ِ اسلامی پر ہوا۔ کیونکہ حسینہ واجد جانتی تھیں کہ سیکولر نیشنلزم کے بیانیے کے مقابلے میں جماعت ہی واحد فکری قوت ہے جس کا تنظیمی ڈھانچہ، نظریاتی وژن اور عوامی جڑیں مضبوط ہیں۔ جماعت کے امیر اور سینئر رہنماؤں کو پھانسی۔ دفاتر بند۔ جماعت کے نام کا میڈیا میں ذکر تک ممنوع۔ جلسوں اور حتیٰ کہ نمازِ جنازہ تک پر پابندی۔ ہزاروں کارکنان کی گرفتاریاں اور اغوا۔
ریاست کا خیال تھا کہ جبر سے جماعت ختم ہو جائے گی، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس سامنے آئی: جماعت ٹوٹی نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں اس کے لیے احترام بڑھا۔ 2024 کے انتخابات بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ کے سب سے متنازع انتخابات ثابت ہوئے۔ اصل اپوزیشن کو حصہ لینے ہی نہیں دیا گیا۔ عوام کا اعتماد ٹوٹا اور ڈھاکا سمیت پورے ملک میں ریاست مخالف لہر ابھری۔ بی این پی مکمل طور پر غیر مؤثر۔ میڈیا خوفزدہ۔ سول سوسائٹی خاموش۔ طلبہ میں شدید غصہ۔ معیشت دباؤ میں۔ ریاستی جبر حد سے بڑھا ہوا۔ ایسے وقت میں صرف ایک قوت میدان میں زندہ، منظم اور نظریاتی بنیادوں پر استوار تھی— جماعت ِ اسلامی۔
ریاستی جبر کے باوجود جماعت کے کارکنان اور اسلامی چھاترو شبر کا نظم، ڈسپلن اور پرامن جدوجہد نے اسے عوام کے درمیان دوبارہ معتبر قوت بنا دیا۔ عالمی میڈیا کے لیے بھی یہ حیرت کا مقام تھا کہ: ’’جماعت ِ اسلامی ظلم سہتی ہے، تشدد نہیں کرتی‘‘۔ اسی فرق نے جماعت کو نئے سیاسی بحران میں ایسی جگہ دی جو آج بنگلا دیش کے مستقبل کا اہم ترین تعیناتی نکتہ بن چکا ہے۔ جماعت ِ اسلامی کیوں ابھرتی ہوئی قوت بن رہی ہے؟
1) سیاسی خلا بھرنے والی واحد تنظیم: بی این پی کی کمزوری اور عوامی لیگ کے جبر نے ایک خلا پیدا کیا۔ یہ خلا نہ لیفٹسٹ جماعتیں پْر کر سکیں نہ سول سوسائٹی۔
ریاستی جبر کے باوجود جماعت ہی وہ قوت ہے جس کے پاس: ملک گیر تنظیم۔ نظریاتی یکجہتی۔ نظم و ضبط۔ تربیت یافتہ لیڈر شپ۔ عوامی اعتماد موجود ہے۔
2) پرامن احتجاج کا منفرد ماڈل: ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں جب احتجاج کی شدت بڑھ رہی تھی، جماعت ِ اسلامی ہی نے لوگوں کو منظم، پرامن اور ضبط میں رکھا۔ یہ وہ نکتہ تھا جس نے عوامی ذہن میں واضح کر دیا کہ: ’’طاقت کا استعمال ریاست کی طرف سے ہو رہا ہے، عوام کی طرف سے نہیں‘‘۔
3) طلبہ تحریک میں نئی روح: اسلامی چھاترو شبر کا دوبارہ فعال ہونا ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جو قوت طلبہ پر اثر رکھتی ہے، وہ مستقبل کی سیاست کو کنٹرول کرتی ہے۔ گزشتہ دہائی میں جماعت ِ اسلامی پر جو ظلم ہوا، وہ بنگلا دیش کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ مگر عوام نے دیکھا کہ: رہنما پھانسی کے تختے پر مسکراتے ہوئے گئے۔ کارکنان نے تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا۔ تنظیم ٹوٹی نہیں۔ کارکن منتشر نہیں ہوئے۔ عوام کے ذہن میں ایک سوال مسلسل گونج رہا ہے: ’’اگر یہ غدار تھے تو مسکراتے کیوں گئے؟‘‘۔
’’اگر یہ دہشت گرد تھے تو انہوں نے کبھی دہشت گردی کیوں نہیں کی؟‘‘ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے حسینہ حکومت کے پروپیگنڈا کو بھکرا کر رکھ دیا ہے۔ بنگلا دیش کا سیاسی بحران ایشیا کی طاقتوں کے لیے بھی اہم ہے۔ بھارت کو جماعت کا بڑھتا اثر پسند نہیں، کیونکہ وہ ایک مضبوط اسلامی قوت کو اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔ چین جماعت کے نظم و ضبط سے متاثر ہے اور بنگلا دیش میں سیاسی استحکام چاہتا ہے۔ امریکا انسانی حقوق اور آزاد انتخابات کے دباؤ کے ذریعے ایک متوازن سیاسی فضا چاہتا ہے۔ پاکستان جماعت کو ایک مثبت اور اصولی اسلامی تحریک کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ تمام عوامل جماعت کے کردار کو خطے میں زیادہ اہم بنا رہے ہیں۔ اگر آزاد اور شفاف انتخابات ہوئے تو بنگلا دیش کا سیاسی نقشہ یکسر بدل سکتا ہے۔
جماعت پارلیمنٹ میں ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔ کوالیشن حکومت میں فیصلہ کن جماعت بن سکتی ہے۔ نوجوانوں اور متوسط طبقے کی حمایت جماعت کے لیے نئی بنیاد بن رہی ہے۔ فلاحی نیٹ ورک اسے سماجی سطح پر ناقابل ِ نظر انداز قوت بنا رہا ہے۔ یہ امکان نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی سیاسی حقیقت ہے۔ شیخ حسینہ کے جبر نے جماعت کو کمزور نہیں کیا، بلکہ اسے نظریاتی طور پر مزید مضبوط کیا۔
آج ڈھاکا کی سڑکیں گواہ ہیں کہ: ’’جبر کی سیاست کا انجام ہوتا ہے؛ اصول کی سیاست کا نہیں‘‘۔ بنگلا دیش کا مستقبل ان قوتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے جو: ظلم سہتی ہیں مگر تشدد نہیں کرتیں۔ قانون کی بات کرتی ہیں۔ عوام کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں۔ نظریے پر سمجھوتا نہیں کرتیں اور موجودہ بنگلا دیش میں یہ کردار صرف جماعت ِ اسلامی ادا کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش کا بنگلا دیش کی ریاستی جبر بی این پی جماعت کے کا سیاسی کی سیاست عوام کے قوت بن کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔