المعلومہ نیوز ایجنسی سے اپنی ایک گفتگو میں صباح العکیلی کا کہنا تھا کہ کوآرڈینیشن فرنٹ کے رہنماؤں نے وزیر اعظم کے امیدوار کیلیے مخصوص شرائط طے کی ہیں۔ ان میں دوسری مدت کیلیے انتخاب نہ لڑنا اور وزارت عظمیٰ کے دورانیے میں کسی نئی جماعت کی تشکیل نہ دینا شامل ہے تاکہ شیاع السوڈانی حکومت کے تجربے کو دوبارہ نہ دُہرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی سیاسی تجزیہ کار اور مبصر"صباح العکیلی" نے اس بات كی تصدیق کی کہ کوآرڈینیشن فرنٹ کے رہنماء اس بات کے خواہشمند ہیں کہ اگلے مرحلے کے لیے ایک ایسے شخص کو وزیراعظم نامزد کیا جائے جو کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دو شخصیات کے بارے میں ایسی یقینی اطلاعات ہیں جو ضروری اہلیت رکھتے ہیں، جن کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں اور وہ کوآرڈینیشن فرنٹ کے اندر مقبول بھی ہیں۔ صباح العکیلی نے ان خیالات کا اظہار "المعلومہ" نیوز ایجنسی کے ساتھ بات چیت میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کوآرڈینیشن فرنٹ والی سیاسی قوتیں اس بات پر متفق ہیں کہ حکومت کی تشکیل کے عمل کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے انتخاب کا عمل کوآرڈینیشن فرنٹ کی جاب سے تشکیل شدہ کمیٹی کے ذریعے کیا جائے گا اور پھر نامزد امیدوار کا اعلان مذکورہ فرنٹ کی تائید کے بعد کیا جائے گا۔

صباح العکیلی نے کہا کہ کوآرڈینیشن فرنٹ کے رہنماؤں نے وزیر اعظم کے امیدوار کے لیے مخصوص شرائط طے کی ہیں۔ ان میں دوسری مدت کے لیے انتخاب نہ لڑنا اور وزارت عظمیٰ کے دورانیے میں کسی نئی جماعت کا تشکیل نہ دینا شامل ہے تاکہ شیاع السوڈانی حکومت کے تجربے کو دوبارہ نہ دُہرایا جائے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ آنے والی حکومت کا پروگرام، کوآرڈینیشن فرنٹ کی نگرانی میں ہو۔ دوسری جانب افق سٹڈی سنٹر کے سربراہ "جمعة العطوانی" نے کہا کہ کوآرڈینیشن فرنٹ کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے لیے مقرر کردہ شرائط، ماضی کی بجائے مستقبل میں نامزد امیدواروں پر لاگو ہوں گی۔ ان شرائط میں وزات عظمیٰ کے دوران کوئی سیاسی وابستگی نہ رکھنا اور اگلے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا عہد شامل ہے۔ لیکن چار سال گزرنے کے بعد وہ دوبارہ الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کوآرڈینیشن فرنٹ کے کہ کوآرڈینیشن فرنٹ کیا جائے فرنٹ کی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم