ضلع کھرمنگ میں مالا پہنانے کی سیاست کا سلسلہ کب تک؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: کھرمنگ اسوقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے، جو ہر الیکشن کے بعد عوام کو وہیں واپس لے آتا ہے، جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔ دوسرا راستہ وہ ہے جو خدمت، شفافیت، احتساب اور سنجیدہ فیصلوں کی طرف جاتا ہے؛ وہ راستہ جو آنیوالی نسلوں کیلئے بہتر بنیادیں رکھ سکتا ہے، وہ دوسرا راستہ ہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ضلع کھرمنگ کے عوام کب یہ فیصلہ کرینگے کہ سیاست کا وزن پھولوں کی مالاؤں میں نہیں، بلکہ انسانی خدمت کے بوجھ میں ہوتا ہے۔؟ کب عوام یہ سمجھیں گے کہ خوشبوئیں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں، مگر کارکردگی کا نقش تاریخ پر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔؟ تحریر: محمد حسن جمالی
اکیسویں صدی کی تازہ سانسیں انسانی ترقی کے نئے در وا کر رہی ہیں۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے، علم اور ٹیکنالوجی کی رفتار تیز سے تیز تر ہو رہی ہے، شعور نئی منزلیں تلاش کر رہا ہے، لیکن ضلع کھرمنگ کا سیاسی منظرنامہ ایک ایسی خاموش تصویر بن کر دکھائی دیتا ہے، جس پر حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی۔ ضلع کھرمنگ میں چند سالوں سے سیاست کا معیار کارکردگی کے بجائے مالا پہنانے کی رسم بن چکا ہے؛ وہاں یہ روایت مضبوطی سے جڑ پکڑ رہی ہے کہ جو امیدوار عوام کے گلے میں زیادہ مالا پہنائے، لوگ اسے زیادہ مقبول اور کامیاب سمجھے جاتے ہیں۔ چند لمحوں کی یہ خوشی نمائندوں کو بھی دھوکے میں ڈال دیتی ہے اور عوام کو بھی یہ گماں ہونے لگتا ہے کہ شاید انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ پھولوں کی تازگی لمحاتی ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کھرمنگ کے بڑے چھوٹے مسائل کا حل مالاؤں سے نہیں بلکہ مخلص باصلاحیت نمائندے کے انتخاب سے جڑ ہوا ہے۔ ضلع کھرمنگ کے متعدد دیہی علاقے کے عوام آج بھی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں، نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے پر پریشان ہیں، تعلیمی سہولتیں محدود ہیں، سڑکوں کا انفراسٹرکچر کمزور ہے اور انٹرنیٹ جیسے بنیادی وسائل تک رسائی غیر متوازن ہے۔ یہ وہ چیلنجز ہیں، جنہیں پھولوں کی خوشبو نہیں، بلکہ پختہ منصوبہ بندی، مستقل مزاجی اور ذمہ دار قیادت ہی حل کرسکتی ہے۔ علاقہ کندرک کے عوام کی بنیادی ضروریات کو جس بڑی بے شرمی و بے حسی سے نظر انداز کیا گیا، وہ ہماری اجتماعی تاریخ کا ایسا زخم ہے، جو آج تک رِس رہا ہے۔ عوامی نمائندے، خواہ وہ انتخابی نعروں کے زور پر آئے ہوں یا موروثی سیاست کی چھتر چھاؤں میں پروان چڑھے ہوں، سب نے اس علاقے کے مکینوں کو محض ووٹ کی مشین سمجھ کر استعمال کیا اور پھر وقت کے اندھے کنویں میں پھینک کر یکسر بھلا دیا۔
آج بھی کندرک کے چھومیک سے لے کر آخری گاؤں تک پھیلی آبادی ایک معمولی آٹھ دس بیڈ کے اسپتال کے لیے تڑپ رہی ہے۔ ذرا تصور کیجیے، بخار میں سہکتی مائیں، تکلیف میں کراہتے بزرگ، حادثات کا شکار نوجوان اور ننھے بچے جن کے جسم کا درد دوا سے پہلے بے بسی کو محسوس کرتا ہے اور پورے علاقے میں کوئی ایسا طبی مرکز میسر نہیں، جو ابتدائی علاج بھی اطمینان سے مہیا کرسکے۔ واقعتاً ان لوگوں پر جو عذاب روزانہ ٹوٹتا ہے، وہ لفظوں کی گرفت میں نہیں آتا۔ ہم کئی سالوں سے اپنے کالموں کے ذریعے بارہا اس صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے آرہے ہیں۔ ہم نے اقبال حسن، سید امجد زیدی اور دیگر نمائندوں کو بارہا اس سمت متوجہ کرنے کی کوشش کی، مگر ہماری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ کیوں یہ خطہ نمائندوں کی توجہ کا مستحق نہیں۔؟
یہ خطہ آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ نہ صحت کا کوئی مرکز، نہ موبائل نیٹ ورک کی رسائی، نہ سڑکوں کا معیار، نہ ہی وہ سہولتیں جو کسی بھی علاقے کو زندگی سے جوڑتی ہیں۔ کیا یہ لوگ اس قابل نہیں کہ انہیں بنیادی سہولتیں میسر ہوں؟ کیا ان کے خواب اور زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں؟ احترام کے طور پر مالا پہنانا کوئی جرم نہیں، مگر جب یہی عمل سیاسی معیار بن جائے، جب کردار اور سیاسی فہم و شعور کو پس پشت ڈال کر نمائندگی کا حق محض رسم و رواج سمجھا جائے، تب یہ ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ سیاسی بلوغت اسی وقت جنم لیتی ہے، جب عوام سوال کرنا سیکھیں، نمائندے جواب دینے کا حوصلہ رکھیں اور ووٹ جذبات یا دکھاوے کے بجائے مستقبل کے مفاد کے لیے دیا جائے۔
کھرمنگ اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے، جو ہر الیکشن کے بعد عوام کو وہیں واپس لے آتا ہے، جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔ دوسرا راستہ وہ ہے جو خدمت، شفافیت، احتساب اور سنجیدہ فیصلوں کی طرف جاتا ہے؛ وہ راستہ جو آنے والی نسلوں کے لیے بہتر بنیادیں رکھ سکتا ہے، وہ دوسرا راستہ ہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ضلع کھرمنگ کے عوام کب یہ فیصلہ کریں گے کہ سیاست کا وزن پھولوں کی مالاؤں میں نہیں، بلکہ انسانی خدمت کے بوجھ میں ہوتا ہے۔؟ کب عوام یہ سمجھیں گے کہ خوشبوئیں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں، مگر کارکردگی کا نقش تاریخ پر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔؟ اگر عوام واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں موروثی سیاست کے حصار سے نکل کر، ظاہری تاثر سے اوپر اٹھ کر، شعور اور بصیرت سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ تقدیر ہمیشہ انہیں راستہ دیتی ہے، جو اپنے راستے خود چنتے ہیں۔کھرمنگ کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے، مگر شرط صرف یہ ہے کے عوام میں فیصلہ بدلنے کی ہمت ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دوسرا راستہ راستہ وہ ہے ضلع کھرمنگ کھرمنگ کے پھولوں کی سیاست کا یہ ہے کہ کے عوام ہے اور رہی ہے
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔