سابق ایڈشنل ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا دوبارہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
کرپشن کیس میں پولیس حراست سے فرار ہونے والے سابق اے ڈی سی آر سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کرپشن کیس میں گرفتار سابق اے ڈی سی آر سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا پولیس حراست سے فرار
ذرائع کے مطابق راولپنڈی پولیس کی خصوصی ٹیم نے اقبال سنگھیڑا کو حراست میں لے کر لاہور کی کیمپ جیل منتقل کر دیا۔
ابتدائی طور پر انہیں اینٹی کرپشن حکام نے گرفتار کیا تھا۔ جیل پہنچنے پر ان کا میڈیکل معائنہ بھی کیا گیا۔
اقبال سنگھیڑا 13 نومبر کو راولپنڈی سے لاہور منتقلی کے دوران چکری ریسٹ ایریا میں پولیس کی حراست سے فرار ہوگئے تھے جس کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے 3 الگ ٹیمیں بنائی گئیں جن کی نگرانی ایس پی صدر ڈویژن انعم شیر خان کے سپرد تھی۔
دوسری جانب غفلت برتنے والے چاروں پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے اور ان کا موبائل ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ان کا کسی ملزم سے رابطہ تھا یا نہیں۔ چاروں اہلکاروں کو عدالت پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا چکی ہے۔
مزید پڑھیے: نواز شریف اور خواجہ آصف کی ملاقات میں گلے شکوے اور ہنسی مذاق کی اندرونی کہانی
ملزم کے فرار میں استعمال ہونے والی گاڑی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف اضلاع کے ایکسائز دفاتر اور این ایچ اے کو مراسلے بھیجے گئے ہیں۔
گاڑی کا نمبر پورا نہ ہونے کے باعث اس کی رجسٹریشن تک پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ این ایچ اے سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ گاڑی موٹروے کے کس ٹول پلازہ سے باہر نکلی۔
مزید پڑھیں: خواجہ آصف سیالکوٹ میں سڑک کی ناقص تعمیر پر بول پڑے، شدید تحفظات کا اظہار
واضع رہے کہ ملزم کی فراری کے بعد اس کے بھائی سمیت 6 نامعلوم افراد اور 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقبال سنگھیڑا پھر گرفتار اے ڈی سی سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ڈی سی سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا گیا ہے
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔