تحریک انصاف کے سینیٹر خرم ذیشان سے نئی آئینی ترمیم پر خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اپنے خصوصی انٹرویو میں حال ہی میں منتخب ہونیوالے سینیٹر خرم ذیشان کا کہنا تھا کہ آئین مکمل طور پر دفن ہوچکا ہے اور پوری قوم کو عمرانی معاہدے کی بحالی کے لیے تحریک چلانا پڑے گی۔ ان کے مطابق تمام انسانی حقوق پامال ہوچکے ہیں، جبکہ ایک شخص نے تمام اختیارات کے ساتھ استثنیٰ بھی حاصل کر لیا ہے، جو نہ صرف غیر آئینی بلکہ غیر شرعی بھی ہے۔ متعلقہ فائیلیںخرم ذیشان خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے وہ باوقار سیاسی رہنماء ہیں، جنہوں نے قلیل مدت میں اپنی پیشہ وارانہ قابلیت، سنجیدگی اور متوازن طرزِ فکر کے ذریعے پی ٹی آئی کی نئی قیادت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ 2025ء کے سینیٹ کے ضمنی انتخاب میں اس نشست پر کامیاب ہوئے، جو سینیٹر شبلی فراز کی نااہلی کے نتیجے میں خالی ہوئی تھی۔ 91 ووٹوں کی واضح برتری کے ساتھ ان کی کامیابی نہ صرف پارٹی کی جانب سے ان پر اعتماد کا اظہار ہے بلکہ یہ اس حقیقت کی بھی غماز ہے کہ وہ ایک مضبوط، فعال اور مؤثر سیاسی شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ انتخاب کے بعد ان کا بیانیہ "حقیقی آزادی" اور جمہوری اقدار کی پاسداری پر مرکوز رہا، جسے وہ چیئرمین عمران خان کے وژن کے تسلسل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ خرم ذیشان کا پیشہ وارانہ پس منظر نہایت متنوع ہے۔ وہ وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے، سول جج کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور ماس کمیونیکیشن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کی ہمہ جہت صلاحیتیں انہیں سیاسی میدان میں ایک منفرد شناخت فراہم کرتی ہیں۔ سینیئر صحافی نادر بلوچ نے ان کا ایک خصوصی انٹرویو بھی کیا ہے، جو پیشِ خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی