اصلی اور پلاسٹک کے انڈوں کو کیسے پہچانیں؟فوڈاتھارٹی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک): آج کل مارکیٹ میں اصلی اور پلاسٹک کے انڈوں کا شور ہے اس میں کیسے فرق کریں غذائی ماہر نے بتا دیا۔
پاکستان میں اصل کے ساتھ کھانے پینے کی نقل بھی دستیاب ہوتی ہے، اسی لیے اکثر مشہور اشیا پر واضح لکھا ہوتا ہے کہ نقالوں سے ہوشیار۔
آج کل پاکستان میں اصلی اور نقلی انڈوں کا شور ہے۔ ایک بڑا طبقہ ہے، جس کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں پلاسٹک کے انڈے مل رہے ہیں، جس کی زردی اور سفیدی کی رنگت اور ساخت قدرے مختلف ہوتی ہے۔ تاہم انڈوں پر کہیں لکھا نہیں ہوتا کہ نقالوں سے ہوشیار تو وہ کس طرح اصل اور نقل کی پہچان کریں۔
اس حوالے سے اے آر وائی کے مقبول مارننگ شو ’’گڈ مارننگ پاکستان‘‘ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے رہنما محسن بھٹی نے اہم گفتگو کی۔
محسن بھٹی کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پلاسٹک کے انڈے کھا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم انہیں ابال کر زمین پر پھینکیں تو وہ ربڑ کی گیند کی طرح اچھلتے ہیں۔
غذائی ماہر کا کہنا تھا کہ ہوتا یہ ہے کہ گرمیوں میں انڈوں کی کھپت کم ہو جاتی ہے، لیکن فارمی مرغی تو سارا سال انڈے دیتی ہے اور پروڈکشن جاری رہتی ہے۔ اس لیے پولٹری مالکان انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹور میں رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب کئی ماہ بعد انہیں مارکیٹ میں فروخت کے لیے لایا جاتا ہے تو اس کی سفیدی اور زردی کی ساخت میں لچک آ جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ پلاسٹک کے انڈے کھا رہے ہیں۔
غذائی ماہر نے بتایا کہ انڈوں میں یہ تبدیلی انہیں سرد خانے میں رکھنے کی وجہ سے آتی ہے، ورنہ پلاسٹک کا کوئی انڈا نہیں ہوتا۔ کیونکہ پلاسٹک کو ابالا نہیں جا سکتا۔ پلاسٹک کو نہ فرائی کیا جا سکتا ہے اور نہ آملیٹ بنا سکتے ہیں۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے رہنما نے کہا کہ جس طرح تازہ اور باسی پھل اور سبزی کے ذائقے اور ساخت میں تبدیلی آتی ہے، ایسے ہی تازہ اور دیر تک رکھے جانے والے انڈوں میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ تاہم وہ مرغی کے دیے ہوئے اصل انڈے ہی ہوتے ہیں، ناکہ پلاسٹک کے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پلاسٹک کے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز