Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:29:06 GMT

اصلی اور پلاسٹک کے انڈوں کو کیسے پہچانیں؟فوڈاتھارٹی

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

اصلی اور پلاسٹک کے انڈوں کو کیسے پہچانیں؟فوڈاتھارٹی

کراچی (نیوزڈیسک): آج کل مارکیٹ میں اصلی اور پلاسٹک کے انڈوں کا شور ہے اس میں کیسے فرق کریں غذائی ماہر نے بتا دیا۔

پاکستان میں اصل کے ساتھ کھانے پینے کی نقل بھی دستیاب ہوتی ہے، اسی لیے اکثر مشہور اشیا پر واضح لکھا ہوتا ہے کہ نقالوں سے ہوشیار۔

آج کل پاکستان میں اصلی اور نقلی انڈوں کا شور ہے۔ ایک بڑا طبقہ ہے، جس کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں پلاسٹک کے انڈے مل رہے ہیں، جس کی زردی اور سفیدی کی رنگت اور ساخت قدرے مختلف ہوتی ہے۔ تاہم انڈوں پر کہیں لکھا نہیں ہوتا کہ نقالوں سے ہوشیار تو وہ کس طرح اصل اور نقل کی پہچان کریں۔

اس حوالے سے اے آر وائی کے مقبول مارننگ شو ’’گڈ مارننگ پاکستان‘‘ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے رہنما محسن بھٹی نے اہم گفتگو کی۔

محسن بھٹی کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پلاسٹک کے انڈے کھا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم انہیں ابال کر زمین پر پھینکیں تو وہ ربڑ کی گیند کی طرح اچھلتے ہیں۔

غذائی ماہر کا کہنا تھا کہ ہوتا یہ ہے کہ گرمیوں میں انڈوں کی کھپت کم ہو جاتی ہے، لیکن فارمی مرغی تو سارا سال انڈے دیتی ہے اور پروڈکشن جاری رہتی ہے۔ اس لیے پولٹری مالکان انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹور میں رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب کئی ماہ بعد انہیں مارکیٹ میں فروخت کے لیے لایا جاتا ہے تو اس کی سفیدی اور زردی کی ساخت میں لچک آ جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ پلاسٹک کے انڈے کھا رہے ہیں۔

غذائی ماہر نے بتایا کہ انڈوں میں یہ تبدیلی انہیں سرد خانے میں رکھنے کی وجہ سے آتی ہے، ورنہ پلاسٹک کا کوئی انڈا نہیں ہوتا۔ کیونکہ پلاسٹک کو ابالا نہیں جا سکتا۔ پلاسٹک کو نہ فرائی کیا جا سکتا ہے اور نہ آملیٹ بنا سکتے ہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے رہنما نے کہا کہ جس طرح تازہ اور باسی پھل اور سبزی کے ذائقے اور ساخت میں تبدیلی آتی ہے، ایسے ہی تازہ اور دیر تک رکھے جانے والے انڈوں میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ تاہم وہ مرغی کے دیے ہوئے اصل انڈے ہی ہوتے ہیں، ناکہ پلاسٹک کے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پلاسٹک کے

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی