ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ و اساتذہ کیساتھ خصوصی نشست، قومی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے تعلیمی اداروں کے طلبہ و اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست کی جس میں حالات حاضرہ پر بات کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کانونٹ آف جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس اور روٹس سکول سسٹم کے طلباء و طالبات اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست میں افواج پاکستان کے آپریشنل اُمور اور داخلی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس موقع پر پرنسپل کانونٹ آف جیسس اینڈ میری سکول نے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، اساتذہ اور طلباء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ طلباء اور اساتذہ نے کہا کہ ہمارے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہمیں آرمی سے بات چیت کا موقع ملا۔ طلبہ نے کہا کہ ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے جو پاکستانی عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں حقائق کو درست نقطہ نظر سے دیکھنے کی تلقین کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں سوشل میڈیا کے حوالے سے پروپیگنڈا، گمراہ کن اور نقصان دہ معلومات کے بارے میں آگہی دی۔ اساتذہ نے بتایا کہ آج ہم نے سیکھا کہ ازلی دشمن کے تزویراتی تکبر کا مقابلہ کیسے کیا جائے، ہم پاک فوج کو ان کے پختہ عزم اور بہادری پر سلام پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر طلبہ نے کہا کہ بطور ذمہ دار شہری ہمیں سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا سے خود کو بچانا ہو گا، میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں میں سچائی جاننے کے لیے تحقیق کرنا ضروری ہے، پاک فوج اور پاکستانی عوام نے مل کر بھارت کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے ساتھ خصوصی نشست کے اختتام پر طلبہ نے کہا کہ ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ کس طرح پاک فوج ہمارے ملک کو دہشت گردی سے بچانے میں مدد کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔