وانا کیڈٹ کالج میں خوارج کیخلاف آپریشن جاری، 650 افراد میں سے 115 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
وانا کیڈٹ کالج میں خوارج کیخلاف آپریشن جاری، 650 افراد میں سے 115 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ وانا کیڈٹ کالج کے اندر موجود 3 خوارجیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے جب کہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اندر موجود تینوں خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے- یہ لوگ مسلسل ٹیلیفون پے افغانستان سے ہدایات لے رہے ہیں ، خوارج ایک عمارت میں چھپے ہوئے ہیں جو کہ کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور ہے۔
عمارت کی کلیئرنس کو بڑی مہارت کے ساتھ سرانجام دیا جارہا ہے تاکہ کیڈٹس کی زندگی محفوظ رہ سکے اور ان کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔
واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ دھماکے سے کالج کا مرکزی گیٹ منہدم، قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر جہنم واصل کر دیا تھا۔
معصوم قبائلی بچوں پر حملہ اور دھشتگردوں کا اسلام سے یا پاکستان کی عوام کی خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں، آخر دہشتگرد کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے، کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے، جس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں، افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے، اس وقت بھی کالج کے اندر تقریباً 535 افراد موجود ہیں، وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد کی عدالت کا گنڈا پور کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم اسلام آباد کی عدالت کا گنڈا پور کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم اندازہ ہے افغانستان کیا کررہا ہے، دہشتگردوں کو نہ روکا تو ہم بندوبست کریں گے، وزیرداخلہ کی وارننگ گلگت بلتستان: چلاس میں خوفناک لینڈ سلائیڈنگ، کئی گاڑیاں زد میں آگئیں، متعدد افراد دب گئے اسلام آبادجی الیون کچہری کے باہرخود کش دھماکے میں 2وکلاء بھی شہید مولانا فضل الرحمان کی اپنے ارکان اسمبلی کو 27 ویں ترمیم کیخلاف ووٹ دینے کی ہدایت اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ معطلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ وانا کیڈٹ کالج ریسکیو کر لیا کیڈٹ کالج میں افغان خوارج افراد کو کیڈٹس کی جاری ہے کہ کیڈٹ اسلام ا
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔