27ویں آئینی ترمیم غلط، پارلیمنٹ کو جرنیلوں کا ’ربڑ اسٹمپ‘ بنادیا گیا، مولانا عطا الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سینیٹ میں جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عطا الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ ترمیم پوری طرح غلط ہے اور اس میں کسی قسم کی بہتری موجود نہیں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ آئین کو کیوں متنازع بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کو ’دیوار کے ساتھ لگانے‘ جیسی پالیسیوں کی مذمت کی۔ مولانا نے اس امر پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کو جرنیلوں کے اشاروں پر ربڑ اسٹمپ بنا دیا گیا ہے اور یہ خطرناک رجحان ہے، جو ترامیم ہو رہی ہیں وہ ممکنہ طور پر عسکری مفادات کے تحت ہیں۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے استعفے کا مطالبہ، مولانا فضل الرحمان بھی بول پڑے
انہوں نے کہا کہ اگر ایسے اقدامات جاری رہیں تو پھر مارشل لا کی ضرورت ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ عملی طور پر فوجی اثرورسوخ مستقل طور پر قائم ہو جائے گا۔
مولانا نے اس بات پر بھی خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان کے خلاف عسکری مہم بین الاقوامی قوتوں کا ایجنڈا ہو سکتی ہے اور سوال اٹھایا کہ افغان مہاجرین کی آباد کاری کا فیصلہ کس کا تھا؟ جمہوری اداروں کا یا جرنیلوں کا؟ جبکہ گزشتہ 40 سال کے مہاجرین کے حقوق اور اخراج کے عمل پر بھی اظہارِ تشویش کیا۔
مزید پڑھیں: 27ویں ترمیم قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے، عطاتارڑ
ان کا مؤقف تھا کہ آئین اور پارلیمانی عمل کے ساتھ کھیل نہیں ہونا چاہیے اور افغانستان کی جانب کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں آئینی ترمیم جے یو آئی سینیٹ مولانا عطا الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم جے یو آئی سینیٹ مولانا عطا الرحمان ہے اور
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔