پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر قطر و ایران میں تشویش کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
دونوں فریقین نے غزہ کے تازہ ترین واقعات اور سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے پیش کردہ حالیہ قرارداد پر بھی اظہار خیال کیا۔ اسلام ٹائمز۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" اور ان كے قطری ہم منصب "شیخ محمد بن عبدالله آل ثانی" کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں وسعت کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر ایران و قطر نے اظہار تشویش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے علاقائی ممالک کی کوششیں نہایت اہم ہیں۔ دونوں فریقین نے غزہ کے تازہ ترین واقعات اور سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے پیش کردہ حالیہ قرارداد پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق بالخصوص اُن کے حق خود ارادیت کے تحفظ کے لئے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ واضح رہے کہ قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالله آل ثانی کے پاس دوحہ کی وزارت عظمیٰ کا قلمدان بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔