وانا کیڈٹ کالج پر حملہ، سکیورٹی فورسز نے تمام کیڈٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
وانا کیڈٹ کالج پر حملہ، سکیورٹی فورسز نے تمام کیڈٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
وانا(آئی پی ایس )سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیڈٹ کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک350 افراد کوبحفاظت ریسکیو کرلیا گیا اور تمام کیڈٹس محفوظ ہیں،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسزکا آپریشن نہایت احتیاط اورحکمتِ عملی سے جاری ہے، کالج میں اس وقت بھی 300 کے قریب افراد موجود ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن احتیاط سے کیا جارہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک سکیورٹی فورسزکا آپریشن جاری رہے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اندر موجود تینوں خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے- یہ لوگ مسلسل ٹیلیفون پے افغانستان سے ہدایات لے رہے ہیں ، خوارج ایک عمارت میں چھپے ہوئے ہیں جو کہ کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور ہے۔عمارت کی کلیئرنس کو بڑی مہارت کے ساتھ سرانجام دیا جارہا ہے تاکہ کیڈٹس کی زندگی محفوظ رہ سکے اور ان کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ دھماکے سے کالج کا مرکزی گیٹ منہدم، قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر جہنم واصل کر دیا تھا۔معصوم قبائلی بچوں پر حملہ اور دہشتگردوں کا اسلام سے یا پاکستان کی عوام کی خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں، آخر دہشتگرد کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریبا 650 افراد موجود تھے۔ کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے، جس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔
ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں، افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے، اس وقت بھی کالج کے اندر تقریبا 535 افراد موجود ہیں، وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے، جس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے، کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے، اس وقت بھی کالج کے اندر تقریبا 535 افراد موجود ہیں۔کیڈٹ کالج وانا کے مرکزی گیٹ پر خود کش حملے کی اندورونی سی سی ٹی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔ویڈیو میں واضح دیکھا جاسکتا یے کہ کیسے کالج کے گیٹ پر خود کش دھماکہ کیا گیا، سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ 10 نومبر کو افغان خوارجیوں نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سے کالج کا مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا تھا، معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نا قبائل سے ،نہ پاکستان کی خوشحالی سے، دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد خودکش دھماکا،فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آگئے اسلام آباد خودکش دھماکا،فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آگئے اسلام آباد حملے کے کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، عطا تارڑ خلفائے راشدین بھی عدالتوں میں پیش ہوئے، صدر مملکت مستثنیٰ کیوں؟ حافظ نعیم الرحمن عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر انکی بہنوں اور کارکنوں کا اڈیالہ روڈ پر علامتی دھرنا، پولیس سے تلخ کلامی خیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ یہ قانون سازی نہیں، آئین اور قانون پر حملہ ہے، اس وقت پاکستان میں ایک ڈھونگ رچایا جارہا ہے،سلمان اکرم راجاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز کیڈٹ کالج ریسکیو کر فورسز نے کیڈٹس کو پر حملہ
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔