اسلام آباد ٹیم میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے کئی نئے کھلاڑی سامنے آئے،کرکٹ کوچ محمد نعیم
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد ٹیم میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے کئی نئے کھلاڑی سامنے آئے،کرکٹ کوچ محمد نعیم WhatsAppFacebookTwitter 0 13 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)کرکٹ کی دنیا میں ایک جانا پہچانا نام محمد نعیم المعروف انضی جنہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز جونیئر ورلڈ کپ انڈر-19 سے کیا،وہ بابراعظم، حارث رؤف، شاداب خان، حیدر علی اور دیگر معروف کرکٹرز کے ساتھ کھیل چکے ہیں۔محمدنعیم نے ڈومیسٹک کرکٹ میں 20 سال خدمات انجام دیں اور اس وقت پی سی بی سے تصدیق شدہ اسلام آباد ریجن کے کوچ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔
گزشتہ تین سال سے کوچنگ کے میدان میں سرگرم ہیں اور بطور اوپننگ بیٹسمین اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔سب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں محمد نعیم المعروف انضی نے کہا کہ میں نوجوانوں کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ تعلیم پر بھرپور توجہ دیں،کھیل کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک کامیاب کرکٹر بننے کے لیے صرف کھیل نہیں بلکہ شعور اور علم بھی بہت اہم ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ 2024 سے کرکٹ اسلام آباد ٹیم کے لیے سلیکٹ ہوئے اور موبائل ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے کئی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے ہیں۔
محمد نعیم نے انڈر-15 سطح پر بھی کرکٹ کھیلی ہے اور ملک میں ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے سرگرم ہیں۔موجودہ نسل کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں میں ہار برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ میرے پاس بہت سے ایسے نوجوان کرکٹرز آئے جن کی سلیکشن نہ ہونے پر وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات والدین کو جذباتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہایت خطرناک اور پریشان کن ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی کامیابی کی کنجی ہیں،وقتی ناکامی سے گھبرانے کے بجائے مستقل محنت کریں، انشاءاللہ وقت کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو جاتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد کی تاریخ میں پہلی بار کامیاب روبوٹک سرجری پاک سری لنکا ون ڈے سیریز کا شیڈول تبدیل، بقیہ میچز اب کب ہوں گے؟ وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہائی کمشنر،ٹیم منیجرسے ملاقات،مہمان ٹیم دورہ مکمل کرے گی شیخ محمد بن حماد بن تہنون آل نہیان ابوظہبی ٹی10 لیگ کے سرپرستِ اعلیٰ مقرر ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20اور کویت کرکٹ کا شاندار اشتراک رضوان نے خود کپتانی چھوڑی، ان کے ہی مشورے سے ٹیم کی قیادت سنبھالی: شاہین آفریدی بھارت کی اکڑ نکل گئی، ایشیا کپ ٹرافی کیلئے منتیں کرنے لگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد سب نیوز کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ