پیپلزپارٹی سی ای سی اجلاس، 27ویں ترمیم پر ارکانِ کو اعتماد میں لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
کراچی:( نیوزڈیسک) پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں 27ویں ترمیم کےمجوزہ ڈرافٹ پرارکان مجلس عاملہ کواعتماد میں لیا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں قانونی و سیاسی کمیٹی کےارکان نےمجوزہ ترامیم کی نوعیت اوراپنی سفارشات سےآگاہ کیا، سی ای سی میں الیکشن کمیشن،آئینی عدالتوں سے متعلق ترامیم بارے کئی ارکان نے مثبت رائے دی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مجلس عاملہ میں آئینی عدالتوں سے متعلق ڈرافٹ کے نکات پر بھی بڑا اختلاف نہیں،اِس پربحث جاری جاری ہے۔
دوسری جانب سی ای سی ارکان کی رائے ہے کہ چیف الیکشن کمشنر،ممبران الیکشن کمیشن کےانتخاب میں سقم دورکیاجائے،
اُنہوں نے تجویز دی کہ الیکشن کمیشن سےمتعلق ایسی شق شامل ہو جس سےحکومتی عمل دخل کم رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔