شیخ حسینہ واجد بغاوت کیس میں مفرور قرار،اخباروں میں نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251102-01-3
ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے جہاں کریمنل انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے انہیں بغاوت کیس میں مفرور قرار دیتے ہوئے اخباروں میں نوٹس جاری کردیا ہے۔بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق سی آئی ڈی نے بغاوت کیس میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور 260 دیگر کو مفرور قرار دیا گیا ہے اور تمام افراد کے خلاف نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔اسپیشل سپرنٹنڈنٹ سی آئی ڈی جسیم الدین خان کے دستخط سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ نے یہ حکم جاری کردیا ہے۔ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ 17 کے جج عارف الاسلام نے شیخ حسینہ اور دیگر 260 افراد کو مفرور قرار دیا ہے اور باقاعدہ طور پر نوٹس شائع کرنے کا حکم دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ واجد اور دیگر کے خلاف نوٹس انگریزی اور بنگالی زبان کے اخباروں میں شائع کیا گیا ہے۔نوٹس کی منظوری بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے کریمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 196 کے تحت دے دی ہے اور سی آئی ڈی نے بغاوت کیس میں تفتیش شروع کردی ہے۔بنگلہ دیشی میڈیا نے بتایا کہ سی آئی ڈی نے تفتیش کے دوران آن لائن پلیٹ فارم جوئے بنگلہ بریگیڈ کے ذریعے ملک کے اندر اور بیرون ملک بغاوت سے متعلق سرگرمیوں کے ثبوت جمع کیے ہیں، جس کا مقصد حکومت کا خاتمہ تھا۔سی آئی ڈی نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سرورس او سوشل میڈیا سے جمع کیے گئے مواد کی فرانزک تجزیے کے بعد تفتیش مکمل کرکے شیخ حسینہ واجد سمیت 286 افراد کے خلاف چارج شیٹ جمع کرادی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شیخ حسینہ واجد بغاوت کیس میں سی ا ئی ڈی نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔